Maktaba Wahhabi

685 - 1201
3۔مقتولین کی تعداد: اس تباہ کن لڑائی میں مقتولین کی جو تعداد سامنے آئی ہے، اس کا اندازہ لگانے میں روایات مختلف ہیں، اسی لیے مسعودی نے راویوں کے ذاتی رجحان کو اس اختلاف کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔[1] چنانچہ قتادہ کہتے ہیں کہ جنگ جمل میں مقتولین کی تعداد بیس ہزار تھی[2] لیکن اس میں مبالغہ معلوم ہوتاہے اس لیے کہ دونوں فوجوں کی کل تعداد ہی اتنی یا کچھ کم تھی، جب کہ ابومخنف رافضی اور شیعہ راوی نے اس سے میں اور بھی مبالغہ آمیزی کی ہے، اس کا یہ خیال تھا کہ اس کرتوت سے میں نے اچھا کام کیا ہے۔ حالانکہ اس نے برا کیا، اس کا کہنا ہے کہ صرف بصری فوج کی تعداد بیس (20) ہزار تھی۔[3] اور سیف بن عمر نے لکھا ہے کہ مقتولین کی تعداد دس ہزار تھی، نصف علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کے تھے اور نصف عائشہ رضی اللہ عنہا کے اور ان کی دوسری روایت ہے کہ بیان کیا جاتا ہے کہ مقتولین کی تعداد پندرہ ہزار تھی، پانچ ہزار اہل کوفہ میں سے تھے اور دس ہزار اہل بصرہ میں سے، نصف مقتولین معرکہ کے پہلے رن میں اور نصف دوسرے رن میں [4]یہ دونوں روایات انقطاع اور دیگر اسباب ضعف کی وجہ سے نا قابل اعتبار ہیں اور ان دونوں میں مبالغہ سے کام لیا گیا ہے۔ عمر بن شبہ اپنی سند سے ذکر کرتے ہیں کہ مقتولین کی تعداد چھ ہزار (6000) سے زائد تھی، لیکن یہ روایت بھی سند کے اعتبار سے سخت ضعیف ہے۔[5] اگر آپ یعقوبی کو دیکھیں تو اسے سب سے چار قدم آگے پائیں گے، اس نے مقتولین کی تعداد تیس ہزار(30000) سے کچھ زائد بتائی ہے۔[6] صحیح بات یہ ہے کہ مذکورہ تمام روایات میں تعداد کے بیان میں مبالغہ سے کام لیا گیاہے اور اس مبالغہ کی ضرورت کیوں پیش آئی اس کے چند اسباب سمجھ میں آتے ہیں۔ ٭ ًّسبائیت اور اس کے معاونین دشمنان صحابہ کی یہ خواہش کہ امت مسلمہ جو کہ محبت صحابہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کی اتباع پر متفق ہے، اس میں اختلافات کی خلیج وسیع کی جائے۔ ٭ معرکہ میں شریک ہونے والے قبائل کے بعض شعراء اور جہلاء کی شرکت جنھوں نے حادثات کو خوب رنگ روغن کر کے اور اسے بھاری بھرکم بنا کر پیش کیا، تاکہ اپنے بعض سرداروں اور شہ سواروں کی طرف منسوب کر کے جو شعر گوئی کرتے ہیں دونوں میں مطابقت پیدا ہو سکے۔ مزید برآں معرکہ کی شب میں پیش آنے والے واقعات کے ناقلین اور قصہ گو حضرات جو اس معرکہ کے بارے میں باتیں کیا کرتے تھے، انھوں نے مزید رنگ چڑھادیا۔ ٭ اپنے مستقبل کے منصوبوں اور تدابیر کی کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لیے سبائیت اور ہنگامہ کاروں کے
Flag Counter