Maktaba Wahhabi

402 - 1201
کرتا ہے تو وہ سراسر آپ کی مخالفت کر رہا ہے، من مانی کر رہا ہے اور پیر و مرشد کی ہدایت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی ہدایت پر مقدم کر رہا ہے اور یہ ایسا عمل ہے جس کی حرمت ان الفاظ میں وارد ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۚ (الحجرات:1) ’’اے لوگو جو ایما ن لائے ہو ! اللہ اور اس کے رسو ل سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو۔‘‘ اور فرمایا: فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٦٣﴾ (النور:63) ’’سو لازم ہے کہ وہ لوگ ڈریں جو اس کاحکم ماننے سے پیچھے رہتے ہیں کہ انھیں کوئی فتنہ آپہنچے، یا انھیں دردناک عذاب آپہنچے۔‘‘ ج: … مزارات جہالت و پسماندگی کی علامت ہیں: امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیان کے بموجب قبروں کو برابر کردینے سے متعلق فرمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہوئے آج پختہ قبروں اور مزارات کو بڑی اہمیت دی جانے لگی ہے۔ ان کے نقش و نگار اور رنگ و روغن کے لیے متعدد اشکال اختیار کی جارہی ہیں، غلاف کعبہ کی طرح ان پر ریشم کے پردے چڑھائے جارہے ہیں۔ ان مزاروں پر مزین اعلیٰ و عمدہ ترین اور بیش قیمت دروازے لگائے جارہے ہیں، اور بڑی بڑی وزنی لوہے کی تجوریاں رکھی جارہی ہیں۔ ان کے پس پردہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنی مرادیں مانگنے اورحاجت طلبی کے لیے یہاں تشریف لانے والے زائرین زیادہ سے زیادہ عطیات اور قبر والوں کے نام پر نذرانے پیش کریں۔ آج مجاوروں کی زندگی عیش و تنعم کی بے مثال زندگی بن چکی ہے۔ یہی مجاور مُردوں کی کرامتوں کے ناقل ہوتے ہیں، اور جو شخص ان کرامتوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے اسے دست غیب کے برے انجام سے ڈراتے اور دھمکاتے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ قبروں کی آرائش و زیبائش اور تعظیم کا یہ منظر دنیا نے اس سے پہلے نہ دیکھا تھا، بلکہ اس کی پذیرائی علمی انحطاط اور فکری جمود کے ان ادوار میں ہوئی جن میں مسلمانوں کی زندگی روبہ زوال تھی، اور ان کی ہمتیں اور حوصلے پست ہو رہے تھے، تاریخ کا وہ ایسا تاریک دور تھا جس میں مسلمانوں نے روشن و مہذب رسالت محمدیہ کے نیرتاباں پر درویشی، گم نامی، بے کاری اور توہمات کی چادر ڈال دی، جب کہ اسی رسالت محمدیہ نے اپنی ابتدائی چالیس سال کی مختصر سی مدت میں اس دنیا کی روم و ایران جیسی عظیم سلطنتوں کو اپنے تابع کرلیا تھا۔ اس زوال پذیر دور میں دنیا کو علم اور عمل صالح سے بھردینے والے سلف صالحین کے منہج سے دور ہو کر مسلمانوں نے توہمات کے گرد اپنی کوششوں کو محصور کردیا، حالانکہ یہ قابل عمل تو کجا قابل توجہ بھی نہیں ہیں۔ کیا ہی بہتر ہوتا اگر ہم اپنے دل سے پوچھتے کہ روئے زمین کی سب سے افضل قبر یعنی قبر نبوی کے ساتھ یا امت محمدیہ کے افضل ترین طبقہ یعنی صحابہ کی قبروں
Flag Counter