Maktaba Wahhabi

1194 - 1201
البتہ اس سلسلہ میں جو روایات ملتی ہیں وہ اس طرح ہیں: ٭ اس سے پہلے کہ لوگ فجر کی نماز سے لوٹتے، حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے آپ کو ابواب کندہ سے متصل میدان میں جامع مسجد کے پاس دفن کردیا۔[1] ٭ ایک دوسری روایت بھی اسی طرح ہے کہ کوفہ میں محل امارت سے متصل جامع مسجد کے پاس رات کے وقت آپ کی تدفین ہوئی اور آپ کی قبر کو چھپا دیا گیا۔[2] ٭ ایک روایت بتاتی ہے کہ آپ کے صاحبزادے حسن نے آپ کو مدینہ منتقل کرکے وہاں دفن کیا۔[3] ٭ ایک روایت کے مطابق کوفہ کے نجف میں جو قبر آپ کی طرف منسوب ہے وہ آپ ہی کی قبر ہے، لیکن بعض علمائے سلف مثلاً قاضی کوفہ شریک بن عبداللہ نخعی متوفی 178ھ اور محمد بن سلیمان حضرمی متوفی 297ھ نے اس کا انکار کیا ہے۔[4] حقیقت یہ ہے کہ نجف میں مشہد علی کا وجود عباسی عہد حکومت کے رافضی حکمراں بنوبویہ کی ایجاد ہے۔ روافض شیعہ نے چوتھی صدی ہجری میں اپنی عادت کے مطابق اسے ایجاد کیا اور شہرت دلائی، حالانکہ تقریباً تمام محققین اس بات پر متفق ہیں کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کی قبر نہیں ہے بلکہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی قبر ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’نجف میں جو مشہد علی ہے اس کے بارے میں مؤرخین متفق ہیں کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کی قبر نہیں ہے، بلکہ کہا گیا ہے کہ وہ مغیرہ بن شعبہ کی ہے، کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہ علی رضی اللہ عنہ کی قبر ہے، آج سے تین صدی قبل باوجودیکہ اہل بیت اور خود شیعہ اور دیگر مسلمانوں کی اکثریت رہی اور کوفہ میں ان کی حکومت بھی رہی لیکن کسی نے وہاں کے لیے قصد زیارت نہیں کیا۔ رہا مشہد علی، تو اسے علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے تین سو سال بعد عجم شاہان بنوبویہ کی حکومت میں بنایا گیا۔‘‘[5] دوسری جگہ لکھتے ہیں: ’’جہاں تک مشہد علی کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں عام علماء کا خیال ہے کہ وہ آپ کی قبر نہیں ہے، بلکہ اسے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی قبر بتایا جاتا ہے۔ علی رضی اللہ عنہ کی وفا ت کے تین سو سال بعد بنوبویہ کے دور اقتدار میں اس کا ظہور ہوا۔‘‘[6]
Flag Counter