|
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ احد کے دن مجاہدین اسلام کو لگے زخموں کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مقتولین کے لیے کشادہ قبر کھودو، اور ان کے ساتھ اچھامعاملہ کرو، اور دو دو اور تین تین کو ایک قبر میں دفن کرو، اور ان میں جو قرآن کا علم زیادہ رکھتے تھے انہیں آگے کرو، چنانچہ میرے باپ بھی رخموں کی تاب نہ لاکر وفات پاگئے تو انہیں دو آدمی پر مقدّم کیا گیا۔ [1]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مقتولین ِ احد زیادہ تھے اور کپڑے کم تھے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین تین اور دو دو کو ایک قبر میں جمع کرتے اور پوچھتے کہ ان میں سے کس کے پاس قرآن کا علم زیادہ تھا، اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم لحد میں مقدم کرتے، اور دو دو اور تین تین کو ایک کپڑے کا کفن دیتے ۔ [2]
جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ شہدائے احد اپنی جگہ سے اٹھالیے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے پکارا کہ تم لوگ شہدا کو ان کی پہلی جگہوں پر لوٹا دو، اور جابر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ میرے والد معرکۂ احد میں شہید ہوگئے تو میری بہنوں نے مجھے اپنی ایک اونٹنی دے کر بھیجا اور کہا کہ جاؤ اپنے باپ کو اس اونٹ پر لاد کر لے آؤ، اور انہیں بنوسلمہ کے مقبرہ میں دفن کردو۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے کچھ مددگار وہاں پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ملی، آپ اس وقت میدانِ احد میں ہی بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ اپنے بھائیوں کے ساتھ دفن کیے جائیں گے، چنانچہ وہ مقام احد میں ہی دیگر شہداء کے ساتھ دفن کیے گئے ۔ [3]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا:
سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی شہدائے احد کا ذکر کرتے تو کہتے اللہ کی قسم! میں نے چاہا کہ مجھے بھی میرے اُن صحابہ کے ساتھ شہید کردیا جاتاجو پہاڑ کے دامن میں قتل کردیے گئے ۔ [4]
صحابیات ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا موقف:
مدینہ میں مسلمان مردوں اورعورتوں پر میدانِ احد میں ان کی اتنی بڑی تعداد کے قتل ہوجانے کے سبب بہت بھاری مصیبت پڑگئی تھی، اور ان ہی میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے، جنہیں مقتولین احد کے سبب بہت ہی گہرا غم لاحق ہوگیا اور خاص طور سے آپؐ کے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ان کے دل پر زندگی بھر غم کا گہرا اثر رہا، ذیل میں کچھ صحابیات ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے
|