Maktaba Wahhabi

677 - 704
مسلمانوں کو ڈراتے تھے۔ [1] ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آخری بات جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی یہ تھی کہ حجاز ونجران میں رہنے والے یہودیوں کو جزیرئہ عرب سے نکال دو، اور جان لو کہ بد ترین ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔ [2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت کے حقدار سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ : محمد بن جبیر بن مُطعم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک صحابیہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ طلب کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ دنوں کے بعد آنے کو کہا۔ صحابیہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں آئی اور آپ نہ ملے تو کیا کروں گی؟ جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: صحابیہ کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں نہ ملوں تو ابو بکر سے ملنا۔ [3] ابن ملیکہ روایت کرتے ہیں، میں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کو کہتے سناکہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو اپنا خلیفہ بناتے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتے۔ پھر پوچھا گیا: ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بعد کس کو بناتے؟ تو کہا: عمر رضی اللہ عنہ کو۔ پھر پوچھا گیا: عمر رضی اللہ عنہ کے بعد کس کو بناتے؟ انہوں نے کہا: ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بن الجرّاح کو۔ پھر انہوں نے یہیں بات ختم کر دی۔ [4] سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیں: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماری کے ایام میں کہا: ابو بکر اور اپنے بھائی کو بلا لو تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں، مجھے ڈر ہے کہ کوئی متمنی تمنا کرے اور کہے کہ میں زیادہ مستحق ہوں، جبکہ اللہ عزوجلّ اور مؤمنین اس کا انکار کرتے ہیں۔ [5] ایامِ مرض میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میمونہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے، عبداللہ بن زمعہ سے فرمایا: لوگوں سے کہو کہ وہ نماز پڑھ لیں۔ اُن کی ملاقات عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب سے ہوئی، انہوں نے اُن سے کہا: اے عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیجیے، انہوں نے نماز پڑھانی شروع کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی آواز پہچان لی، اُن کی آواز اونچی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا یہ عمر کی آواز نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزّ وجلّ اور مؤمنین اِس کا انکار کرتے ہیں، ابو بکر کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ [6] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفیقِ اعلیٰ کو اختیار کر لیا: امّ المؤمنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تندرست تھے تو فرمایا کرتے تھے: کوئی نبی بھی اس سے پہلے وفات نہیں پاتا کہ جنت میں اُس کی جگہ اسے دکھا دی جاتی ہے، پھر اُسے اختیار دیا جاتا ہے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری نے شدت اختیار کر لی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر میری ران پر تھا، تو کچھ دیر کے لیے آپؐ پر غشی طاری ہوئی، پھر ہوش آگیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نظر اٹھاکر چھت کی طرف دیکھا، پھر فرمایا: اے اللہ! اب مجھے اوپر بلا
Flag Counter