Maktaba Wahhabi

635 - 676
مقدمہ ’’نصرة الباري في بيان صحة البخاري‘‘ الحمد لله العلي العظيم، والصلوة والسلام الأتمان علي نبيه الكريم! خاتم الأنبياء الهادي إلي المنهج القويم، و علي أتباعه السادة الغرر، الهداة إلي الصراط المستقيم، و آله و أصحابه الكبائر العظام الذين كل منهم قائد وزعيم۔ عرف میں حدیث کا لفظ قرآن عزیز اور آثار نبویہ پر بولا گیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور افعال و اجتہادات اور خاموشیاں آثار میں شامل ہیں۔ مسائل کے استنباط و استخراج میں ان آثار کو اساسی حیثیت حاصل تھی اور ہے۔ قرآن مجید کے فہم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مقام تھا، وہ کسی دوسرے کو حاصل ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر کوئی دوسرا شخص یہ مقام حاصل کر سکے، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اصطفاء اور انتخاب عبث ہو گا۔ نبی اور غیر نبی میں کوئی جوہری امتیاز نہیں رہے گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾ (16/44) [1] ’’ہم نے تم پر قرآن صرف اس لیے نازل کیا ہے کہ تم لوگوں کے سامنے اسے بیان کرو اور لوگ اسے سوچیں۔‘‘ ’’لِتُبَيِّنَ‘‘ میں تعلیل سے جو حق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے، اگر یہ حتمی مقام کس کو انفراداً یا چند افراد کو بطور مرکز ملت دیا جائے، تو آیت کے دونوں فقروں میں ربط نہیں رہے گا۔ تعلیل کا مقصد یکسر ختم ہو جائے گا۔ اس مقام عظیم کا استحقاق نہ کسی قرآنی معاشرہ کو دیا جا سکتا ہے اور نہ فقہی اور اجتہادی معاشرہ کو، اس مقام کی وضاحت قرآنِ عزیز نے مختلف وجوہ سے کی ہے:
Flag Counter