Maktaba Wahhabi

291 - 676
سنت سازی کی توجیہ غالباً مولانا نے کسی مالکی کے بیان سے فرمائی یا اپنی ہی درایت سے اسے جنم دیا۔ امام مالک رحمہ اللہ کے ارشاد سے اس کا ثبوت نہیں ملتا۔ مولانا اصلاحی گو اہل حدیث نہیں، لیکن وہ کھلے ذہن سے سوچنے کے عادی ہیں۔ اگر وہ اعلام الموقعین (ج 2) اور احکام ابن حزم (ج 2) ملاحظہ فرمائیں تو راقم سے اتفاق فرمائیں گے۔ إن شاء اللّٰه اہلِ مدینہ کے عمل کے اجزائے ترکیبی: حافظ ابن قیم رحمہ اللہ اہلِ مدینہ کے عمل کا پسِ منظر ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں: ’’كان بحسب من فيها من المفتين والأمراء والمحتسبين علي الأسواق، ولم تكن الرعية تخالف هؤلاء، فإذا أفتي المفتون نفذه الوالي، وعمل به المحتسب، وصار عملا، فهٰذا هو الذي لا يلتفت إليه في مخالفة السنن، لا عمل رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم و خلفائه والصحابة، فذاك هو السنة، فلا يخلط أحدهما بالآخر، فنحن لهٰذا العمل أشد تحكيما، وللعمل الآخر إذا خالف السنه أشد تركا، وباللّٰه التوفيق‘‘ (إعلام: 2/306) ’’خلفاء راشدین اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا دور گزرنے کے بعد اہلِ مدینہ کا عمل کیا تھا: مفتی کا فتویٰ، امیر کا حکم اور کوتوال کا احتساب۔ رعیت اس کی مخالفت نہیں کرتی تھی۔ لیکن یہ قطعاً قابلِ توجہ نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خلفاء اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا عمل تو سنت ہے۔ ہم ان کا فیصلہ قبول کرتے ہیں اور اس کے ساتھ دوسری کوئی چیز خلط نہیں کرنا چاہتے، اور اس کے سوا جو عمل سنت کے خلاف ہو، اس کا حتماً انکار کرتے ہیں۔‘‘ اس کے بعد حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے ایسی سنتوں کا ذکر فرمایا جو خلفاء اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے وقت میں موجود تھیں، لیکن موالک نے ان پر عمل ترک کر دیا۔ یہی تذکرہ حافظ ابن حزم اس طرح فرماتے ہیں: ’’یہ زمانہ خیر تو گزر گیا۔ اس کے بعد عمرو بن سعید اور حجاج بن یوسف ایسے فاسق اور ظالم بھی مدینہ کے والی بنے اور عمرو بن حزم اور عمر بن عبدالعزیز ایسے صالح اور نیک
Flag Counter