Maktaba Wahhabi

552 - 676
عرف الشرع ما يضاف إلي النبي صلي اللّٰه عليه وسلم‘‘ (تدريب للسيوطي، ص: 4) [1] ’’شرعاً حدیث وہ اقوال و افعال ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوں۔‘‘ سلسلہ روایت میں شبہات: (1) رواۃِ حدیث میں ہر قسم کے آدمی پائے گئے ہیں، جھوٹے، وضاع، ضعیف۔ بد اعتقاد لوگ بھی اس سلسلہ میں پائے گئے ہیں، اسی طرح ثقات، صلحاء و فضلاء اور اتقیاء بھی اسی راہ میں پائے گئے ہیں، اس لحاظ سے محدثین نے خبر واحد کو ظنی قرار دیا ہے۔ رجال حدیث میں وضع و تخلیق کی عادت بھی پائی گئی ہے، اس سے بھی ظنیت میں اضافہ ہوا ہے۔ (2) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی تدوین حدیث کا کام شروع نہیں کیا گیا، بلکہ کچھ عرصہ بعد علماء نے اس طرف توجہ فرمائی، اس لیے غلطی کا احتمال بعد میں بڑھ گیا ہے۔ (3) محدثین انسان تھے، وہ کتنی بھی کوشش فرما دیں، بہرحال اس انسانی کوشش میں ان پر پورا اطمینان نہیں کیا جا سکتا، اس لیے یہ مساعی حدیث کی ظنیت میں کمی نہیں کر سکیں۔ (4) کوفہ اور خراسان میں شیعی، خارجی تحریکات نے اپنے خیالات کی حمایت کے لیے احادیث کی تخلیق اور وضع کا کام کیا، جس سے حدیث کا ذخیرہ مشکوک ہو گیا اور صحیح و غیر مستند احادیث میں فرق کرنا مشکل ہو گیا۔ قریباً یہی شبہات ہیں جو حدیث کی ظنیت یا غیر مستند ہونے پر اجمالاً یا تفصیلاً وارد کیے گئے ہیں۔ یہ شبہات ہیں جو اہل قرآن اور مخاطب محترم ایسے صرف ’’مسلمان‘‘ فن حدیث پر وارد فرماتے ہیں۔ اعتراف حقیقت: مجھے اس حقیقت کا اعتراف کرنے میں کوئی باک نہیں کہ نقل کے لحاظ سے حدیث کو وہ وثوق و تواتر میسر نہیں آ سکا، جو قرآن مجید میں پایا جاتا ہے، اور جو تواتر نماز اور بعض دوسرے اعمال میں پایا گیا ہے، وہ قرآن عزیز کے تواتر سے اعلیٰ و ارفع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ اہل سنت کے نزدیک حدیث کا مرتبہ قرآن کے بعد ہے۔ بلحاظ نقل حدیث کے متعلق کبھی ’’مثله معه‘‘ کا دعویٰ نہیں کیا
Flag Counter