|
[1]’’مظنونات کو من حیث الکل قبول کر لینا جس درجہ کی غلطی ہے، اسی درجہ کی غلطی من حیث الکل رد کر دینا بھی ہے۔‘‘ (تفہیمات، ص: 314)
مولانا کا مشورہ یہ ہے کہ منکرینِ حدیث کو پورے ذخیرے کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔ (میرا خیال ہے کہ منکرین حدیث سے پرویز پارٹی شاید مولانا کی تجویز سے اتفاق کر لے)۔
اس کے بعد مولانا فرماتے ہیں:
’’آحاد کو رد کرنے سے دین میں جامعیت نہیں رہے گی۔ قرآن سے اور متواتر احادیث سے اسلام کا مکمل نظامِ حیات نہیں مل سکتا۔ صرف اخبار آحاد ہی ہیں جو ہم تک ہدایات کا عظیم الشان ذخیرہ بہم پہنچاتی ہیں۔‘‘ (تفہیمات، ص: 314)
یہ اندازِ بیان کتنا ہی معذرت خواہانہ کیوں نہ ہو، مگر درست ہے۔ طریقِ ادا میں کتنی مسکنت اور کمزوری ہو، مگر مجارات مع الخصم کے طریق پر مولانا نے جو فرمایا، مناسب ہے۔ طریقِ ادا سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر جو فرمایا کافی حد تک صحیح ہے۔
|