|
شیخ رحمہ اللہ کا اس مسئلے میں ایک اور قول ہے، انھوں نے اس میں جو انھوں نے ابھی سلف سے ذکر کیا، مخالفت کی ہے، ان کا موقف ہے کہ میّت اپنے علاوہ کسی اور کی تمام عبادات سے فائدہ حاصل کرتی ہے، ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الروح‘‘ میں اس قول کو اختیار کیا اور قیاسی طور پر اس کی بھرپور تائید کی ہے جس کے بطلان کا بیان قریب ہی گزرا ہے، اور یہ اس کے خلاف ہے جو ہم نے محض امور تعبدیہ میں قیاس میں ترک توسیع کے حوالے سے ان شیخ رحمہ اللہ سے معلوم کیا ہے، خاص طور پر جو ان کے حوالے سے اس کے خلاف ہو جس پر سلف صالحین رضی اللہ عنہم کا عمل رہا ہے، ان کے کلام کے خلاصے کو علامہ سید محمد رشید رضا نے ’’تفسیر المنار‘‘ (۸/۲۵۴۔۲۷۰) میں نقل کیا، پھر اس پر علمی طور پر خوب رد کیا، پس جو اس مسئلے میں وسعت چاہتا ہے وہ اس کی طرف رجوع کرے۔
بہت سے بدعتیوں نے اس قول کا غلط استعمال کیا، انھوں نے اسے سنت سے جنگ کرنے کا ذریعہ بنایا اور انھوں نے انصار السنۃ اور اس کے پیروکاروں کے خلاف شیخ اور ان کے شاگرد سے دلیل لی اور یہ بدعتی اس سے جاہل رہے یا انھوں نے جان بوجھ کر لاعلمی کا اظہار کیا کہ انصار السنۃ اللہ تعالیٰ کے دین میں کسی معین شخص کی تقلید نہیں کرتے جیسا کہ یہ لوگ کرتے ہیں، وہ اس حق پر، جو ان پر واضح ہوجائے، علماء میں سے کسی کے قول کو ترجیح نہیں دیتے، خواہ ان کا اس کے علم و صلاح میں کتنا اچھا اعتقاد ہو، وہ قول کی طرف دیکھتے ہیں نہ کہ قائل کی طرف، اور دلیل کی طرف نہ کہ تقلید کی طرف، وہ امام دار الہجرۃ (امام مالک) کے قول پر اپنی نظریں مرکوز رکھتے ہیں، اور ان کے قول کو نصب العین بناتے ہیں: اس صاحب قبر (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے علاوہ ہم میں سے ہر ایک کی بات ردّ کی جاسکتی ہے اور اسے قبول بھی کیا جاسکتا۔‘‘ اور انہوں نے فرمایا: ’’ اس صاحب قبر (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے قول کے علاوہ ہر شخص کے قول کو قبول بھی کیا جاسکتا ہے اور ردّ بھی کیا جاسکتا ہے۔‘‘
جب یہ بات اہل علم کے ہاں مسلم اور طے شدہ ہے کہ اس زندگی میں ہر عقیدہ یا رائے جسے کوئی اختیار کرتا ہے اس کا اس کے طرز عمل میں ایک اثر ہوتا ہے، اگر وہ خیر ہے تو وہ (اثر) خیر ہے۔ اگر شر ہے تو وہ شر ہے، اور یہ بھی طے شدہ ہے کہ اثر مؤثر پر دلالت کرتا ہے، بے شک ان دونوں (اثر اور مؤثر) میں سے ہر ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہے، خیر کے حوالے سے یا شر کے حوالے سے، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا، اس کے مطابق ہم شک میں نہیں کہ اس قول کا اس شخص پر برا اثر ہے جو اسے اختیار کرتا ہے۔ اس میں سے مثلاً: یہ عقیدہ رکھنے والا ثواب اور بلند درجات کے حصول میں اپنے علاوہ کسی اور پر بھروسہ کرتا ہے، کیونکہ اس کا عقیدہ ہے کہ لوگ دن میں سینکڑوں بار تمام مسلمانوں کو نیکیاں بخشتے ہیں، ان میں سے جو زندہ ہیں ان کو اور ان میں سے جو فوت ہوگئے ہیں ان کو، اور وہ بھی ان میں سے ایک ہے (جس کے نامۂ اعمال میں نیکیاں جمع ہورہی ہیں)، تو پھر وہ اپنے علاوہ کسی اور کے عمل کے ذریعے اپنی تگ ودو اور کسب سے کیوں نہ بے نیاز ہوگا! کیا آپ دیکھتے نہیں مثلاً کہ بعض مشائخ اپنے بعض
|