|
’’المدخل‘‘ (۳/ ۲۶۲) ، (۲/ ۲۲۲)۔ ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۷/ ۸۸)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۲/ ۸۸)۔
۸۹: حاضرین کا الٹے ہاتھوں سے مٹی ڈالنا اور ’’إنا للہ وإنا إلیہ راجعون‘‘ پڑھنا: [1]
’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۷/ ۸۹)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۲/ ۸۹) ۔
۹۰: مٹی کی بھری ہوئی پہلی مٹھی پر ﴿مِنْہَا خَلَقْنٰکُمْ﴾ دوسری مٹھی پر ﴿وَفِیْہَا نُعِیْدُکُمْ﴾ اور تیسری پر ﴿وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی﴾ (طٰہٰ: ۵۵) پڑھنا:
’’احکام الجنائز‘‘ (۱۹۳-۱۹۴، ۳۱۸/ ۹۰)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۲/ ۹۰)
میت پر تین مٹھیاں مٹی ڈالنے اور اس کے ساتھ یہ آیت ﴿مِنْہَا خَلَقْنٰکُمْ وَ فِیْہَا نُعِیْدُکُمْ وَ مِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی﴾ (طٰہٰ: ۵۵) پڑھنے کے مسئلے کی تفصیل
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’احکام الجنائز‘‘ (ص۱۹۳-۱۹۴) میں فرمایا:
فقہاء میں سے بعض متاخرین کا استحباب ہے کہ پہلی مٹھی[2] پر ﴿مِنْہَا خَلَقْنٰکُمْ﴾ دوسری پر ﴿وَ فِیْہَا نُعِیْدُکُمْ ﴾ اور تیسری پر ﴿وَ مِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی﴾ (طٰہٰ: ۵۵) پڑھاجائے۔ جبکہ اس کی احادیث میں کوئی اصل نہیں…
رہا نووی کاقول(۵/۲۹۳-۲۹۴)’’اس کے لیے ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے استدلال کیا جاتا ہے، انہوں نے کہا: ’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو قبر میں رکھا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿مِنْہَا خَلَقْنٰکُمْ وَفِیْہَا نُعِیْدُکُمْ وَ مِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی﴾ (طٰہٰ: ۵۵) امام احمد نے اسے عبیداللہ بن زحر کی روایت سے علی بن زید بن جدعان، عن القاسم کے حوالے سے روایت کیا ہے، وہ تینوں ضعیف ہیں۔ لیکن فضائل کی احادیث کو دیکھا جائے گا (ان سے مانوس ہوا جائے گا) اگرچہ وہ ضعیف الاسناد ہوں، ترغیب وترہیب میں ان پر عمل کیا جائے گا، اور یہ
|