|
’’الإبداع’‘(۱۱۴)، ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۷/۸۰)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۱/۸۰)۔
۸۱: جنازے کو گھر سے نکالتے وقت جو جانور ذبح کیا گیا اس کا خون میت کی قبر میں رکھنا:
’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۷/ ۸۱)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۱/ ۸۱)۔
۸۲: میت کو دفن کرنے سے پہلے اس کی چارپائی کے گرد ذکر کرنا:
’’السنن‘‘ (۶۷) ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۷/ ۸۲)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۱/ ۸۲) ۔
۸۳: (ا) میت کو قبر میں داخل کرتے وقت اذان دینا:
’’حاشیۃ ابن عابدین‘‘ (۱/ ۸۳۷) ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۷/ ۸۳)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۱/ ۸۳) ۔
۸۳: (ب) میت کو دفن کرنے کے لیے اذان:
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (ص۱۰۱)
۸۴: میت کو قبر کے سرہانے کی طرف سے قبر میں اتارنا:
(دیکھیں مسئلہ: ۱۰۰، [1] ص: ۱۹۰) ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۷/ ۸۴)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۱/ ۸۴) ۔
۸۵: میت کو قبر میں اتارتے وقت اس کے ساتھ تھوڑی سی تربت حسین علیہ السلام رکھ دینا کیونکہ وہ ہر قسم کے خوف سے امان (کا باعث) ہے: [2]
’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۷/ ۸۵)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۱/ ۸۵)
۸۶: میت کے نیچے بلا ضرورت ریت بچھانا:
’’المدخل‘‘ (۳/۲۶۱)، ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۷/۸۶)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۱/ ۸۶)۔
۸۷: قبر میں میت کے سر کے نیچے تکیہ وغیرہ رکھنا:
’’المدخل‘‘ (۳/ ۳۶۰)، ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۷/ ۸۷)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۲/ ۸۷)۔
۸۸: میت پر اس کی قبر میں عرق گلاب چھڑکنا:
|