| (237) مردو ں کے لئے سرمہ کا استعمال السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ بغیر ضرورت کے مردوں کے لئے اپنی آنکھوں میں سرمہ استعما ل کر نے کاکیا حکم ہے ؟ الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! سرمی کی دوقسمیں ہیں: (1)وہ جو تقویت بصر آنکھ کے پردہ کو جلا بخشنے اور آنکھ کی نظا فت و طہارت کے لئے استعمال کیا جا ئے اور اس میں جما ل کا پہلو نہ ہو تو اس میں کو ئی حرج نہیں بلکہ ان مقا صد کے لئے سرمے استعما ل کر نا چاہئے کیو نکہ نبی ﷺ سرمی استعمال فر مایا کر تے تھے خصوصاً جب کہ وہ اصلی اثمد ہو تا ۔ (2) وہ جو محض زینت و جما ل کے لئے استعمال ہو تو یہ عورتوں کے لئے ہے کیو نکہ عورت سے مطلوب یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر کے سامنے زیب و زینت کا اظہا ر کر ے ۔مردوں کے لئے اس کے استعمال کا کیا حکم ہے مجھے یہ معلو م نہیں ؟ ہذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ اسلامیہ ج1 ص38 |
| Book Name | اجتماعی نظام |
| Writer | متفرق |
| Publisher | متفرق |
| Publish Year | متفرق |
| Translator | متفرق |
| Volume | متفرق |
| Introduction | فتاوے متففرق جگہوں سے ، مختلف علما کے، مختلف کتابوں سے نقل کئے گئیے ہیں۔ البتہ جمع و ترتیب محدث ٹیم نے ، تصحیح و تنقیح المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر نے کی ہے |