Maktaba Wahhabi

259 - 437
بندگان الٰہی کو اس کی شریعت پر مطمئن ہونا چاہئےاوراس کے حکم کے آگے سرتسلیم خم کردینا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اورتمام مسلمانوں کو دین میں فقاہت، معاملہ میں صداقت، اپنی رضا کے کاموں میں مسابقت اوراپنی ناراضگی کے اسباب سے عافیت عطافرمائے۔ انه سميع قريب، وصلي اللّٰه وسلم علي عبده ورسوله محمد وآله وصحبه۔ کیااس سونے میں بھی زکوۃ ہے جسے عورت زینت کے لیے استعمال کرے؟ سوال: کیااس سونے میں بھی زکوۃواجب ہے جسے عورت محض زینت کے لیے استعمال کرتی ہے اورجسے اس نے تجارت کے لیے حاصل نہیں کیا؟ جواب : عورتوں کےزیورات جب کہ وہ نصاب کےمطابق ہوں اوربغرض تجارت نہ ہوں توان میں وجوب زکوٰۃکےبارےمیں اہل علم میں اختلاف ہےلیکن صحیح بات یہی ہےکہ ان میں زکوٰۃواجب ہےبشرطیکہ وہ نصاب کےمطابق ہوں خواہ محض پہننےاورزیب وزینت کےلیےہوں۔ سونےکانصاب بیس مثقال ہےاوریہ۷ /۳ /۱۱سعودی گنی کےبرابرہے۔اگرزیورات کاوزن اس سےکم ہوتوان میں زکوٰۃنہیں ہے، ہاں!اگروہ تجارت کےلیےہوں توان میں مطلقازکوٰۃواجب ہےجبکہ سونےاورچاندی کی قیمت نصاب کےمطابق ہو۔چاندی کانصاب ایک سوچالیس مثقال ہےاوریہ چھپن سعودی ریال کےبرابرہے۔اگرچاندی کےزیورات اس سےکم ہوں توان میں زکوٰۃواجب نہیں ہےالایہ کہ وہ بغرض تجارت ہوں تو پھران میں بھی مطلقازکوٰۃواجب ہےجبکہ ان کی قیمت سونےیاچاندی کےنصاب کےبرابرہو۔ استعمال کےلیےسونےچاندی کےزیورات میں وجوب زکوٰۃکی دلیل حسب ذیل حدیث نبوی کا عموم ہےکہ: ((مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ، وَلا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا إِلا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ، فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ وَجَبِينُهُ وَظَهْرُهُ)) (الحدیث) ’’سونےاورچاندی کاہروہ مالک جوزکوٰۃادانہیں کرتاتواس کےلیےروزقیامت سونےاورچاندی کوآگ کی تختیوں کی صورت میں ڈھال کران سےاس کےپہلو، پیشانی اورپشت کوداغاجائےگا ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہما سےمروی حدیث میں ہےکہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تواس کی بیٹی کےہاتھ میں سونےکےدوکنگن تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:’’کیاتم اس کی زکوٰۃاداکرتی ہو؟‘‘اس نےکہا:جی نہیں، توآپ نےفرمایا:’’کیاتم اس بات سےخوش ہوکہ ان کےبجائےاللہ تعالیٰ روزقیامت تمہیں آگ کےدوکنگن پہنائے؟‘‘ تواس عورت نےانہیں اتاردیااورکہا:یہ اللہ اوراس کےرسول کےلیےہیں۔(ابوداؤد، نسائی اوراس کی سندحسن ہے) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہےکہ وہ(ام سلمہ)سونےکی پازیبیں پہناکرتی تھیں توانہوں نےعرض کیا:’’یارسول اللہ!کیایہ کنزہے؟‘‘ آپ نےفرمایا:’’جو(سونا، چاندی)نصاب کوپہنچ جائےاوراس کی زکوٰۃاداکردی جائےتووہ کنزنہیں ہے ۔‘‘(اس حدیث کوابوداؤداوردارقطنی نےبیان کیاہےاورامام حاکم نےاسےصحیح کہاہے۔)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سےیہ نہیں فرمایاکہ’’زیورات میں زکوٰۃنہیں ہوتی ۔‘‘
Flag Counter