|
مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار کرتا ہے توان میں تیسراشیطان بھی ہوتا ہے ۔‘‘اس حدیث کو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اوردیگرمحدثین نے صحیح سند کے ساتھ بروایت حضرت عمررضی اللہ عنہ بیان کیا ہے۔واللّٰہ ولی التوفیق۔
میری بیوی اپنے واجبات تواداکرتی ہے لیکن۔۔۔۔۔۔
سوال : میں شادی شدہ ہوں اورمیری بیوی کے بطن سے میرے چاربچےبھی ہیں، میری بیوی اپنے چچا زادبھائیوں سے پردہ نہیں کرتی، میں نے اسے پردے کا حکم دیا ہے لیکن اس نے انکار کردیا ہے، میں نے اپنے سسرال والوں سے بھی یہ کہاکہ وہ اپنی بیٹی سے کہیں کہ وہ پردہ کرے لیکن انہوں نے میری اس بات کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے، میں نے محسوس کیا ہے کہ یہی لو گ اسے اپنے چچاکے بیٹوں سے پردہ کرنے سے روکتے ہیں، میں نے مختلف طریقوں سے انہیں سمجھانے کی کوشش کی ہے لیکن بے سود اوربالآخر انہوں نے مجھ سے یہ مطالبہ کردیا ہے کہ میں بھی اس بات کو تسلیم کرلوں یا پھراسے طلاق دے دوں، میری بیوی اپنے تمام گھریلوواجبات تواداکررہی ہے، نمازبھی پڑھتی ہے مگراپنے گھروالوں کی حکم عدولی نہیں کرسکتی، رہنمائی فرمائیں کہ ان حالات میں کیا کروں ؟جزاکم اللہ خیرا!
جواب : آپ کی بیوی پر یہ واجب ہےکہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کےپیش نظر اپنے چچاکے بیٹوں اوردیگر تمام اجنبی مردوں سے پردہ کرے، ارشادباری تعالیٰ ہے:
﴿وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ ۚ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ﴾ (الاحزاب۳۳ /۵۳)
’’اورجب پیغمبر کی بیویوں سےتم کوئی سامان مانگوتوپردےکےپیچھےسےمانگو، یہ تمہارےاوران کے(دونوں کے)دلوں کےلیےبہت پاکیزگی کی بات ہے ۔‘‘
اس(یعنی آپ کی بیوی)کےلیے پردہ اس لیےبھی واجب ہے کہ یہ اسباب فتنہ سےمحفوظ رہے اورلوگ اس کی وجہ سے فتنہ میں مبتلا نہ ہوں۔آپ پر اوراس کے گھر والوں پر یہ واجب ہے کہ اسے سمجھائیں اوربے پردگی کے فتنہ سے ڈرائیں اوراگراس کوتاہی کے علاوہ یہ عورت پسندیدہ اخلاق وکردار کی مالک ہے تو اسے طلاق دینے میں جلدبازی سےکام نہ لو۔ان شاء اللہ اس کا ایمان مجبور کرے گا کہ یہ اپنے اللہ، اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اوراپنے شوہر کی اطاعت بجالائے، اللہ تعالیٰ اسے رشدوبھلائی سے نوازے اوراس کواپنے نفس اورلوگوں کے شرسے محفوظ رکھے۔
کیامرد کےلیے ٹیلی ویژن اورسینماکی اداکاراؤں کی طرف دیکھنا۔۔۔۔
سوال : مردوں کے لیے ان اداکارہ اورگلوکارہ عورتوں کے چہروں اورجسموں کی طرف دیکھنے کا کیا حکم ہے جو ٹیلی ویژن یاسینمایا ویڈیوپر نظر آتی ہیں یا جن کی کاغذ پر تصویریں بنی ہوتی ہیں؟
جواب : ان کی طرف دیکھنا حرام ہے کیونکہ ان تصویروں کی وجہ سے بھی آدمی ان کے فتنہ میں مبتلا ہوجاتا ہےاورسورۂ نورکی حسب ذیل آیت کریمہ میں ارشادربانی ہے:
﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللّٰه خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ﴾ (النور۲۴ /۳۰)
’’(اےپیغمبر!)مومن مردوں سےکہہ دوکہ اپنی نظریں نیچی رکھاکریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیاکریں، یہ
|