Maktaba Wahhabi

347 - 437
جب زندگی بسر کرنا مشکل ہوتوپھر عورت کے طلاق طلب۔۔۔ سوال : جب زندگی گزارنا مشکل ہوتوپھرطلاق طلب کرنے کے بارے میں حکم شریعت کیا ہے؟زندگی کے مشکل ہونے کا سبب یہ ہے کہ میرا خاوند جاہل ہے، میرے حقوق ہی کو نہیں جانتا، مجھ پر اورمیرے والدین پر لعنت بھیجتارہتا ہے اورمجھے یہودی، نصرانی اوررافضی کے ناموں سے موسوم کرتا ہے لیکن میں اپنے بچوں کی وجہ سے اس کے اس قبیح اخلاق پر صبر کیےہوئے تھی لیکن جب سے مجھے’’التھاب المفاصل ‘‘ کا مرض لاحق ہوا ہے میں صبر کرنے سے عاجز وقاصر ہوگئی ہوں اورمجھے اس سے شدید نفرت ہوگئی ہے حتی کہ میں اب اس سے بات بھی نہیں کرسکتی، میں نے اس سے طلاق طلب کی تواس نےمیرے اس مطالبہ کو بھی مسترد کردیا کیونکہ میں چھ سال سے اس کے گھر میں اپنے بچوں کی خاطر رہ رہی ہوں لیکن اس طرح جیسے کوئی مطلقہ یا اجنبی عورت ہو لیکن ان حالات کے باوجود مجھے طلاق بھی نہیں دیتا، امید ہے آپ میرے اس سوال کا جوا ب عطافرماکرعزت افزائی فرمائیں گے! جواب : جب تمہارے خاوند کا حال یہ ہے جو تم نے ذکر کیا ہے تواس حال میں طلاق طلب کرنے میں کوئی حرج نہیں اوراس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ خواہ اسے کچھ مال ہی کیوں نہ دینا پڑے تاکہ وہ تمہیں طلاق دے دے کیونکہ وہ زندگی بھی اچھے طریقے سے بسر نہیں کرتا اورپھر گندی زبان استعمال کرکے تم پر ظلم بھی کرتا ہے لیکن اگر تم ان حالات میں صبر کرسکو، اسے اچھا انداز و اسلوب اختیار کرنے کی تلقین کرتی رہو اوراس کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی رہو تویہ تمہارے بچوں کے حوالے سے اوراس حوالے سے کہ تمہیں اورتمہارے بچوں کو خرچہ کی ضرورت ہوگی، بہتر ہے اورامید ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ تمہیں اجر اورحسن عاقبت سے نوازے گا۔ہم بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اسے ہدایت اورسلامت روی عطافرمائے۔۔۔لیکن یہ سب کچھ اس صورت میں ہے جب وہ نماز پڑھتا ہواوردین کو برابھلا نہ کہتا ہواوراگروہ نماز نہیں پڑھتا یا دین کو گالی دیتا ہے تووہ کافر ہے، اس کے ساتھ زندگی بسر کرنا جائز نہیں اورنہ یہ جائز ہےکہ تم اپنا نفس اس کے لیے پیش کرو کیونکہ دین اسلام کو گالی دینا اوراس کا مذاق اڑانا اہل علم کے اجماع کے مطابق کفر وضلالت اوراسلام سے ارتدادہے، ارشادباری تعالیٰ ہے: ﴿قُلْ أَبِاللّٰه وَآيَاتِهِ وَرَ‌سُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ ﴿٦٥﴾ لَا تَعْتَذِرُ‌وا قَدْ كَفَرْ‌تُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ﴾ (التوبۃ۹ /۶۵۔۶۶) ’’ کہوکیا تم اللہ اوراس کی آیتوں اوراس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے ؟بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعدکافرہوچکے ہو ۔‘‘ اورعلماء کے صحیح قول کے مطابق ترک نماز کفر اکبر ہے خواہ اس کے وجوب کاانکار نہ بھی کرے کیونکہ صحیح مسلم میں حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ آدمی اورکفر وشرک کے درمیا ن فرق ترک نماز ہے ۔‘‘اسی طرح امام احمد اوراہل سنن رحمۃ اللہ علیہم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’وہ عہد جو ہمارے اوران کے درمیا ن ہے، وہ نماز ہے، جس نے اسے ترک کردیا ا س نے کفرکیا ‘‘ علاوہ ازیں کتاب وسنت کے دیگر دلائل سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے ۔ واللّٰہ المستعان۔
Flag Counter