|
طلوع آفتاب سے قبل غسل کریں تاکہ نماز فجر بروقت اداکرسکیں خصوصا مردکے لیے یہ واجب ہے کہ وہ غسل جنابت بہت جلدی کرے تاکہ نماز فجر باجماعت اداکرسکے۔واللّٰه ولي التوفيق ۔
کیااحتلام، خون اورقےسےروزہ فاسدہوجاتاہے؟
سوال : میں روزہ کی حالت میں تھا کہ مسجد میں سوگیا، بیدارہواتومعلوم ہواکہ مجھے احتلام ہوگیا ہے ۔کیا اس سے روزہ پر کو ئی اثر پڑے گا یا نہیں؟یاد رہے میں نے غسل نہیں کیا اورنماز غسل کے بغیر پڑھ لی تھی ۔اک مرتبہ میرے سر پر پتھر لگاجس کی وجہ سے خون بہہ نکلا تھا توکیا اس خون کےنکلنے کی وجہ سے مجھے روزہ توڑ دینا چاہئے تھا؟کیا قے آجانے سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے یا نہیں؟امید ہے رہنمائی فرمائیں گے!
جواب : احتلام سےروزہ فاسدنہیں ہوتاکیونکہ یہ بندے کے اختیار میں نہیں ہے لیکن خروج منی کی صورت میں غسل جنابت کرنا ہوگا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگرمحتلم پانی یعنی منی کو دیکھے تو اسے غسل کرنا چاہئے۔
غسل کے بغیر آپ نے جو نماز پڑھ لی تویہ ایک بہت بڑی غلطی اورمنکر عظیم ہے، لہذا اس نماز کو دوبارہ پڑھئے اوراللہ سبحانہ کی بارگاہ اقدس میں توبہ بھی کیجئے۔
سرپرپتھر لگنے سے جو خون نکل آیا تواس سے روزہ باطل نہیں ہوتا، جو قے اختیار وارادہ کے بغیر آجائے تواس سے روزہ باطل نہیں ہوتا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے کہ’’جسے غیراختیاری طورپرقے آجائے، اس پر قضا لازم نہیں ہےاورجو خود قے کرے اس پر قضا لازم ہے ۔‘‘(احمدواصحاب سنن اس کی سند صحیح ہے)
شعبان کے ایام بیض کے روزے
سوال : شعبان کے تیرہ، چودہ اورپندرہ تاریخ کے روزوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب : شعبان وغیرشعبان ہرماہ کے ان تین دنوں کے روزے رکھنا مستحب ہے کیونکہ حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہما کو ان دنوں کے ر و زے رکھنے کا حکم دیا تھا، نیزیہ بھی ثابت ہےکہ آپ نےابوالدرداء رضی اللہ عنہ اورابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بھی ان دنوں کےروزوں کی نصیحت فرمائی تھی۔اگرکوئی شخص بعض م ہیں وں کےان دنوں میں روزےرکھ لےاوربعض میں نہ رکھےیاکبھی رکھ لے اور کبھی نہ رکھے تواس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ روزےنفل ہیں فرض نہیں ہیں اورافضل یہ ہےکہ اگرآسانی سےممکن ہوتوہرم ہیں ےان دنوں کے روزے رکھ لیےجائیں۔
زکوٰۃفطرکی قیمت
سوال : زکوٰۃ رمضان کی کتنی قیمت ہے؟
جواب : سائل کایہ سوال شایدصدقۂ فطرکےبارےمیں ہے۔صدقۂ فطرمرد، عورت، آزاد، غلام اورچھوٹے، بڑےہرمسلمان پرواجب ہےکہ ہرعلاقےمیں چاول یاگندم یاکھجوریاجوجنس کھائی جاتی ہو، گھرکےہرفردکی طرف سےہرجنس میں سےایک صاع بطورصدقۂ فطراداکردیاجائےجیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث سےیہ ثابت ہےاور واجب یہ ہےکہ اسےنمازعید سےپہلےپہلےاداکردیاجائےبلکہ عیدسےایک دودن پہلےاداکرنےمیں بھی کوئی حرج نہیں۔صاع تقریباتین کلوکےبرابرہے۔
|