|
استعمال کیا۔ وہ کہنے لگیں : ’’بنو خزرج کا سردار، سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اس دن سے پہلے نیک آدمی تھا، لیکن اسے اپنے قبیلہ کی حمایت نے اندھا کر دیا۔ ‘‘
ایسی گفتگو اور گواہی صرف شریف النفس انسان سے ہی صادر ہو سکتی ہے جیسی گفتگو اور گواہی ام المؤمنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دی۔
۷۔اس طویل حدیث میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جو ان کے جارحانہ مزاج یا درشت طبیعت کی طرف اشارہ کرتا ہو۔
۸۔سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نرم دلی کا اندازہ کیجیے کہ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لطف و عنایت خاص سے محروم ہوئیں جو انھیں ماضی میں ان کی بیماری کی حالت میں عنایت ہوتا تھا تو انھوں نے اس غم کو اپنے دل میں چھپا لیا اور صرف دلی سوال پر ہی اکتفا کیا جسے کوئی زبان بیان کرنے کا حوصلہ نہیں پاتی اور یہ حزن و ملال دراصل محبوب حقیقی کی بے رخی سے محب کے دل پر چوٹ کرتا ہے جو اپنے محبوب کی بے رخی کو فوراً محسوس کر لیتا ہے لیکن وہ ایک غم زدہ اور حیا و شرم کے پیکر کی طرح اپنے محبوب کے سامنے ظاہر نہیں کر سکتا جو اس کے دل اور نفس دونوں کے لیے جان افزا اور لذت آشنا ہوتا ہے اور ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا انہی صفات یعنی شرافت نفس اور شرم و حیا کا پیکر تھیں حتیٰ کہ سب لوگوں سے بڑھ کر جو ہستی ان کی محبوب اور ہر دل عزیز تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی وہ صدق دل اور صدق عاطفت کے ساتھ فدا تھیں ۔
۹۔سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جوں جوں بہتان تراشوں کی افواہیں سنتی جاتی تھیں ان کا مرض شدید ہوتا جاتا تھا۔ یہ ان کی شرافت نفس کی عظیم دلیل ہے کیونکہ نفس انسانی جتنا پاک و صاف ہوتا ہے اتنا ہی بری بات کا صدمہ اس کے لیے درد انگیز ہوتا ہے۔
جب ایسے درشت جملے کسی غیر شریف نفس کے بارے میں کہے جاتے ہیں تو وہ نفس ذرہ بھر حزن و ملال محسوس نہیں کرتا۔ کیونکہ دل قساوت سے معمور ہوتا ہے اور طبیعت میں نری غلاظت بھری ہوتی ہے، اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رُخ انور پر حزن و ملال کی علامتیں صاف دکھائی دیتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گفتگو اور اپنے روزمرہ کے معمولات میں اس جانکاہ صدمے کا اظہار کرتے رہتے تھے کہ جو باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ہستی کے بارے میں کی جاتی تھیں ۔ صدیقہ کائنات رضی اللہ عنہا کا جسم جس مرض میں مبتلا تھا اس میں جب بہتان تراشی کے صدمے کا اضافہ ہوا تو وہ شدت صدمے سے ہر وقت روتی رہتی، حتیٰ کہ
|