Maktaba Wahhabi

301 - 384
جنَاحَ بعُوضَةٍ)) (رواه الشيخان) ’’قیامت کے دن ایک بہت بڑا اور موٹا آدمی آئے گا۔ جس کا اللہ کے ہاں مچھر کے پَر جتنا بھی وزن نہیں ہو گا۔‘‘ اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ((اِنَّمَا الْغِنٰي غِنَي الْقَلْبِ وَالْفَقْرُ فَقْرُ الْقَلْبِ)) (رواہ النسائی) ’’تونگری دل کی تونگری اور غریبی دل کی غریبی کا نام ہے۔‘‘ یعنی تونگری بدل ست نہ بمال۔ سعد رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ((هَلْ تُنْصَرُوْنَ وَ تُرْزَقُوْنَ اِلَّا بِضُعَفَآئِكُمْ؟)) (رواہ البخاری والنسائی) ’’کیا تم صرف اپنے کمزوروں کی وجہ سے مدد نہیں کئے جاتے اور رزق نہیں دئیے جاتے ہو؟‘‘ دنیا کے اکثر سلاطین و بادشاہ تملک و تسلط سے قبل محتاج تھے۔ اس طرح کی عار وہ لوگ دلاتے ہیں۔ جن کے پاس ایمان کا کچھ حصہ نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُ[1] ’’(اللہ ہی) جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کرتا ہے اور (جس کے لیے چاہے) تنگ کرتا ہے۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا[2] ’’دنیوی زندگی میں ان کے درمیان ان کی معیشت ہم نے تقسیم کی ہے۔‘‘ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میرا سابقہ فقر، اضطراری نہ تھا بلکہ اختیاری تھا، اس لیے کہ میرے باپ نے پانچ لاکھ کی جاگیر کو چھوڑ کر علم و فقر اختیار
Flag Counter