Maktaba Wahhabi

256 - 384
ہے۔ ربِ کعبہ کی قسم! میں ان کا مقلد مصطلح نہیں ہوں، جس طرح کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ، حافظ ابن القیم رحمہ اللہ، اور سید محمد بن اسماعیل رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی نہیں ہوں، اگرچہ ان کے کلمات و تحقیقات کا ناقل، قابل اور قائل ضرور ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ امتِ مسلمہ میں سے کسی شخص کا اتباع کسی پر بجز اللہ و رسول اللہ کے واجب نہیں ہے۔ اسی وجہ سے سارے سلف تقلیدِ رجال سے منع کرتے چلے آتے ہیں۔ پھر بھلا جو شخص ائمہ سلف کی تقلید نہیں کرتا۔ وہ ائمہ خلف کی تقلید کیوں کرنے لگا؟ لوگ تقلید اور اقتداء میں فرق نہیں کرتے۔ یہی عدم فرق اس جہالت اور اعتراض کا منشاء ہے، ورنہ اس طعن کا کوئی جواز نہیں تھا۔ ائمہ کی بے ادبی کا الزام: رجماً بالغیب مجھ پر یہ طوفان بھی باندھا گیا کہ میں خدانخواستہ ائمہ اربعہ کے حق میں عموماً اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے حق میں خصوصاً بے ادب اور نامہذب ہوں۔ حالانکہ یہ محض افتراء ہے، اس کی تکذیب کے لیے میرا رسالہ ’’جلب المنفعة‘‘ ہی کافی ہے۔ اگر میں ایسا ہوتا تو اپنی کتب میں ہرگز کسی حنفی مسئلہ کو ترجیح نہ دیتا، حالانکہ ’’مسک الختام‘‘ اور ’’شروح تجریداتِ صحیحین‘‘ وغیرہ میں بہت جگہ میں نے مذہب امام عالی مقام کو راجح لکھا ہے اور دوسرے مذہب کو مذہب مرجوح یا ضعیف یا مردود قرار دیا ہے۔ میں نے تو کسی کتاب میں بھی مقلدینِ مذاہب کے حق میں زبان قلم سے طعن و تشنیع کا کوئی لفظ نہیں نکالا چہ جائے کہ حضرات ائمہ اربعہ کے حق میں کوئی نازیبا کلمہ استعمال کروں۔ ﴿ سُبْحَانَكَ هَـٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ[1] میرا چاروں ائمہِ فقہ، جمیع محدثین، جملہ علماء پاک دین کے حق میں اسی طرح
Flag Counter