Maktaba Wahhabi

270 - 384
مجاہدات اور ریاضات کے ثمرات ہیں۔ کسی کو یہ ثمرہ اس جگہ حاصل ہوتا ہے، اور راسخینِ فی العلم والعمل کو اُس جگہ ظاہر ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہم اللہ سے کرامات کا صدور بہت کم ہوتا تھا۔ اور اولیائے خلف سے بہت زیادہ ظاہر ہوا حالانکہ کوئی ولی، صحابی کے ادنیٰ مرتبہ کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اس مسئلہ پر ساری امت کا اجماع ہے۔ اگر ’’اولیاء الرحمٰن‘‘ اور ’’اولیاء الشیاطین‘‘ کے فرق کو سمجھنا ہو تو ’’کتاب الفرقان‘‘ کا مطالعہ کرو، اگر تصوفِ صافی ملاحظہ کرنا ہو تو ’’مدارج السالکین‘‘ دیکھو، اگر سلوک سنی منظور ہو تو ’’ریاض المرتاض‘‘ کفایت کرتی ہے۔ علاوہ ازیں اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم کو دنیا ہی میں جنت کی بشارت دی گئی، لیکن اولیائے کرام کا انجام ہمیں معلوم نہیں وہ صرف خدا کو معلوم ہے کہ کس کا خاتمہ اچھا ہوا اور کس کا اچھا نہ ہوا۔ اپنا کشف اپنے حق میں یا کسی دوسرے کا کشف اپنے حق میں محل خطا و صواب ہوتا ہے۔ اس لیے کہ کسی کے حق میں ہم جزم کے ساتھ حُسنِ خاتمہ اور وجوبِ جنت کے متعلق نہیں کہہ سکتے، اگرچہ ہر مسلمانِ صادق کے حق میں مغفرت کی اُمید رکھتے ہیں۔ پھر اولیاء کا کیا ذکر کہ وہ تو صفوۃ الصفوۃ، خیرۃ الخیرۃ اور نخبۃ النخبہ ہیں: جعلنا الله منهم و حشرنا في زمرتهم تهت لوآء سيد المرسلين صلي الله عليه وسلم! تالیفات پر اعتراضات: میری تالیفات پر بعض قاصرین نے براہِ حسد کچھ فاسد قسم کے اعتراضات بھی کئے ہیں۔ لیکن یہ مصیبت بھی در حقیقت احسان ہے۔ حاسد نے مجھ پر احسان کیا کہ اپنی نیکیوں کو میری برائیوں کی میزان میں ڈال دیا۔ اگر ان کے اعتراضات اخلاص اور نیتِ صادقہ پر مبنی ہوتے اور مقصود حق اور دین کی حفاظت
Flag Counter