Maktaba Wahhabi

298 - 384
لیکن مجبوری یہ ہے کہ انسان کو اپنی بود و باش میں کچھ اختیار نہیں ہے۔ آب و دانہ کی قید (زنجیر) لوہے کی قید (زنجیر) سے بھی زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ اس شہر میں میری پاشکستگی کی یہی وجہ ہے۔ اس چودھویں صدی میں جملہ اہل دین کے لیے ایک یہ بھی آزمائش ہے کہ ان کے لیے عرب و عجم میں کوئی پر امن جائے ہجرت نہیں۔ ہجرت تو اسی لیے ہوتی ہے کہ اگر انسان اپنے ملک اور گھر میں اپنے دین کے شعائر علی الاعلان بجا نہ لا سکے تو کسی ایسے اسلامی ملک میں جا رہے جہاں بلا روک ٹوک اپنے دین پر قائم دائم رہ سکے۔ اور اس کا برملا اظہار کر سکے۔ اگر ہجرت میں یہ صفت نہ ہو بلکہ دوسری جگہ یہاں کی نسبت بھی زیادہ فتنہ و فساد پیش آئے تو اپنی جان یا اسلام پر رونے کے سوا ور کیا چارہ ہے ؎ سیرہا در ہوس آباد تمنا کردیم منزلِ یاس زہر راہگزر نزدیک ست نہایت مجبوری و معذوری سے یہ قصد کیا تھا کہ اپنے قدیم شہر قنوج ہی میں طرحِ توطن ڈال لی جائے۔ لیکن جب غرہ جمادی الاخریٰ 1305ھ کو عزیزی میر علی حسن خان نے اسے ملاحظہ کر کے ناپسند کیا تو چار و ناچار وہاں کے خیال کو دل سے دور کیا۔ ﴿ وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ﴿٢٩﴾[1] حاسدوں کی طرف سے کچھ اور تہمتیں: حاسدوں اور دشمنوں نے کبھی وضاحتِ نسب کی تہمت لگائی، کبھی اختیارِ حرفہ کی اور کبھی سابقہ فقر و مسکنت کی۔ لیکن میں بحمدہٖ تعالیٰ ان سب عیوب سے پاک ہوں۔ اس لیے کہ میرے نسب میں بارہ ائمہِ اہلِ بیت میں سے آٹھ
Flag Counter