|
تو متصل آتے ہیں۔ اور وہ سب ساری امت کے پیشوا تھے۔ پھر مخدوم جہانیاں جہاں گشت سے لے کر آٹھ دس پشت تک ولایت و علم کا سلسلہ جاری رہا۔ پھر بعض آباؤ اجداد کے پاس بے پناہ ثروت و دولت تھی۔ میرے باپ کے زمانہ سے پھر علم کا شغل غالب آیا۔ چنانچہ اس امامت، ولایت، امارت اور علم کے سوا میرے خاندان میں کسی نے کوئی حرفہ اختیار نہیں کیا۔ اگرچہ میرا اعتقاد ہے کہ حرفہ سب سے افضل کمائی اور رزقِ حلال و طیب ہے۔ اکثر انبیاء، صلحاء اور علماءِ امت صاحبِ حرفہ گزرے ہیں۔ اور وہ اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے اور کتبِ عقائد میں لکھا ہے کہ:
’’ہاتھ کی کمائی مستحب ہے اور اس کا منکر بدعتی ہے۔‘‘
لیکن اس جگہ اعدائے نا محمود کے عار کو دفع کرنا مقصود نہیں بلکہ امرِ واقع کا اظہار مقصود ہے۔ فقر مجھ پر یتیمی کی وجہ سے طاری ہوا تھا۔
﴿ أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ ﴿٦﴾ وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ ﴿٧﴾ وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰ ﴿٨﴾﴾ [1]
میں اس حالت میں بحمدہٖ تعالیٰ رسولِ ملت اور صلحائے امت کا ہم صفیر رہا۔ یہ کوئی عار و نار کی بات نہیں۔ ہماری ہستی آدم علیہ السلام سے لے کر اس دم تک ایک مشتِ خاک ہے۔ آدم علیہ السلام عصیان کے سبب کمالِ فقر مسکنت کے ساتھ جنت سے نکلے تھے۔ یہاں تک کہ بدن کے کپڑے بھی نہ رہے، وہ بھی اتر گئے۔ ستر کو پتوں سے چھپایا تھا۔ یہی حال ہماری ماں حوا کا تھا۔ اسی طرح سارے انبیاء و رسل علیہم السلام نے بھی فقر کو اختیار کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب فرعونِ لعین سے بھاگ کر چاہِ مدین پر آئے تو بالکل بھوکے، پیاسے اور محتاج تھے، انہوں نے فرمایا تھا:
|