|
﴿ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ ﴿٢٤﴾﴾ [1]
’’یا رب! میری طرف تو جو بھی بھلائی نازل کرے میں اس کی طرف محتاج ہوں۔‘‘
اور ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرمایا کرتے تھے:
((اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوْتًا)) [2]
’’اے اللہ! آلِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے رزق کو قوت بنا دے۔‘‘
قوت مقدارِ کفاف کو کہتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی درست نہیں کہ ہر فقیر خدا کا ممقوت اور ہر غنی اس کا محبوب ہوتا ہے بلکہ جسے اللہ دوست رکھتا ہے اسے دنیا سے اس طرح بچاتا ہے، جیسے ہم بیمار کو کھانے پینے سے بچاتے ہیں۔ (رواہ ابو سعید مرفوعاً)
بلکہ دنیا تو اہل اسلام و صلاح کی نسبت اہلِ کفر و فسق کو زیادہ ملتی ہے یہ حالت لائقِ حقارت نہیں بلکہ قابلِ فخر ہے۔ اور حدیثِ حارثہ بن وہب میں مرفوعاً آیا ہے:
((أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَاعِفٍ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ. أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ)) (رواہ البخاری و مسلم)
کیا میں تمہیں خبر نہ دوں کہ اہل جنت کون ہیں! ہر کمزور جو لوگوں میں کمزور سمجھا جاتا ہو۔ اگر اللہ پر قسم اٹھائے تو وہ اسے پورا کرے۔ کیا میں تمہیں آگ والوں کی خبر نہ دوں کہ وہ کون ہیں! ہر سخت خو، اکھڑ اور متکبر!
اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت ہے:
((إِنَّهُ لَيأتِي الرَّجُلُ السَّمِينُ العظِيمُ يَوْمَ الْقِيامةِ لا يزنُ عِنْد اللَّه
|