Maktaba Wahhabi

266 - 318
اب پیش خدمت ہے ان دلائل کی تفصیل۔ شرعی دلائل وقوعِ وثبوت یوم بعث (اٹھنے والے دن)کیلئے شرعی ادلہ اس عنوان سے پہلے تفصیل کے ساتھ گزر چکے ہیں،یہاں پر صرف ایک آیت اور حدیث پر اکتفاء کرتے ہیں اور وہ حسبِ ذیل ہیں : اﷲتعالیٰ وقوعِ قیامت کو بڑی تاکید وقسم کے ساتھ یوں بیان فرماتا ہے: ﴿ زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا أَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ ﴾[1] ’’منکر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ہرگز دوبارہ نہیں زندہ کیئے جائینگے آپ کہہ دیجئے کیوں نہیں قسم ہے میرے رب کی تم ضرور دوبارہ زندہ کیئے جاؤگے پھر جو کچھ تم نے کیا ہے اس سے تمہیں آگاہ کیا جائے گا اور یہ بات اﷲ کیلئے بالکل آسان ہے‘‘ اور اسی طرح قیامت کے متعلق بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں جن میں سے کچھ ہم نے ذکر کی ہیں، اوراب ہم شفاعتِ کبریٰ والی حدیث کا ایک مختصر سا حصہ جو اصل محل شاہد ہے، جس میں ساری مخلوقات کا اﷲ تعالیٰ کے سامنے اکٹھے ہونے کا بیان ہے، قارئین کے سامنے ذکر کرتے ہیں۔ عن أبی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أتی بلحم فرفع إلیہ الذراع وکانت تعجبہ فنھش منھا نھشۃ ثم قال ’’أنا سید الناس یوم القیامۃ وھل تدرون ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ آنحضرت اکی خدمت میں گوشت لایا گیا تو آپ کو ایک دستی اٹھا کر دی گئی؛کیونکہ دستی کا گوشت آپ کو بہت مرغوب تھا، آپ نے
Flag Counter