|
جیساکہ حضرت ابوبکر رضی اﷲعنہ وعمر رضی اﷲعنہ کے اقتدا کا حکم ہے،تو در حقیقت یہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا ہے،جیسا کہ روایت میں آیا ہے :۔
(عن حذیفۃ قال:قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اقتدوا باللذین من بعدی أبی بکر و عمر) [1]
حضرت حذیفۃ رضی اﷲعنہ سے روایت ہے،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ میرے بعد ابوبکر رضی اﷲعنہ وعمر رضی اﷲعنہ کی اقتدا کرنا۔
۵۔ دوسری زندگی کی یاد دہا نی اور مرنے کے بعد سے ڈرانا :
انبیاء ورسل علیہم السلام،کی ارسال وبعثت کی مہمات میں سے ایک مہم یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اس زندگی کے علاوہ ایک دوسری زندگی کی یاد دہانی کرا کے مرنے کے بعد والے مصائب وشدائد اور اھوال وتکالیف سے ڈراتے ہیں، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
﴿ یَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ أَلَمْ یَأْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ آیَاتِیْ وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَائَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا قَالُوْا شَہِدْنَا عَلٰی أَنفُسِنَا وَغَرَّتْہُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا وَشَہِدُوْا عَلٰی أَنفُسِہِمْ أَنَّہُمْ کَانُوْا کَافِرِیْنَ۔ ذٰلِکَ أَنْ لَّمْ یَکُنْ رَّبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَأَہْلُہَا غَافِلُوْنَ ﴾[2]
اے گروہ جن وانس! کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایسے پیغمبر نہیں آئے جو تم کو میرے احکام سنایا کرتے تھے،اورتم کو تمہارے اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے،وہ کہیں گے :کہ ہاں ہم اپنے ہی خلاف گواہی دیتے ہیں، اور انکو دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کررکھا تھا،اور وہ سب اپنے خلاف اعتراف کرینگے کہ وہ بلا شبہ کافر تھے۔ یہ پیغمبروں کا بھیجنا اس
|