|
منکرین عذاب قبر کاشبہ اور اس کا ازالہ
اصل شبہ :بہت سے لوگوں نے قبر کے عذاب ونعیم کا اپنی ناقص عقول کی وجہ سے اس بناء پر انکار کیا ہے کہ یہ غیر ممکن اور واقع کے خلاف ہے، چنانچہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر قبر کھولی جائے تو میت اسی طرح پائی جائے گی، جس طرح پہلے رکھی گئی تھی، اسی طرح وسعت وکشادگی اور ضیق وتنگی کے اعتبار سے قبر میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔
جواب شبہ:مگر منکرینِ عذاب قبر کا یہ انکار شرع، حِسّ اور عقلِ سلیم تینوں کی بناء پر باطل اور بے بنیاد ہے :
شرعی:
عذاب قبر کے سلسلہ کی أدلّہ شرعیہ ’’احوالِ قبر ‘‘ میں تفصیل سے گزر گئی ہیں، وہاں مراجعت کرلیں۔
یہاں ہم صرف ایک روایت نقل کرتے ہیں :
عن ابن عباس رضی اﷲعنہماقال مر النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بحائط من حیطان المدینۃ أو مکۃ فسمع صوت إنسانین یعذبان فی قبورھما فقال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ’’ یعذبان وما یعذبان فی کبیر ثم قال بلی کان أحدھما لایستتر من بولہ وکان الآخر یمشی بالنمیمۃ ثم دعا بجریدۃ فکسرھا کسرتین فوضع علی کل قبر منھما کسرۃ فقیل لہ
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی دیواروں میں سے ایک دیوار کے پاس سے گذرے تو آپ نے دوآمیوں کی آواز سنی جنہیں انکی قبروں میں عذاب دیا جارہاتھا،پس نبی انے فرمایا ان کو عذاب دیا جارہا ہے اور کسی بڑی چیز کی بناء پر عذاب نہیں دیا جارہا پھرفرمایا ہاں ان میں سے ایک اپنے پیشاب سے نہیں بچتاتھا اور دوسرا چغلی کرتا پھرتا تھا پھر آپ نے ایک تر شاخ منگوائی پھر اسکے دو ٹکڑے
|