|
ارتباط بحصہ اول
جب حصہ اول مں اس بیان کے ضمن میں کہ عصر صحابہ رضی اللہ عنہ اور عہد تابعین رحمہ اللہ اور زمانہ اتباع تابعین (رحمہم اللہ اجمعین) میں قرآن عظیم اور سنن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی تقلید شخصی کے بغیر واجب جانی جاتی تھی ان ائمہ باکمال کا ذکر خیر بھی آگیا جنہوں نے تدوین علم کی طرح ڈالی۔ جس سے بعد کے زمانوں میں وہ ایک باقاعدہ اور مستقل فن کی طرح قرار پایا۔ تو اب مناسب ہے کہ اس علم کی تدوین و اشاعت اور زمانہ بزمانہ اس کی ترقی و اذاعت کی کیفیت بھی کسی قدر تفصیل سے بیان کر دی جائے۔ چنانچہ ہم سابقاً فصل زمانہ تابعین و اتباع تابعین میں اس امر کا وعدہ کر آئے ہیں ۔
(۲) دیگر یہ کہ جب جماعت اہل حدیث (کثر اللّٰہ سوادھم) کے متعلق کچھ تاریخی امور بیان ہو چکے۔ تو اب اس مقدس علم کی بھی تاریخ بیان ہونی چاہئے۔ جس کی اتباع و خدمت کی وجہ سے وہ ’’اہلحدیث‘‘ کہلائے تا کہ منسوب اور منسوب الیہ ہر دو کے ذکر سے مضمون مکمل ہو جائے۔
|