Maktaba Wahhabi

493 - 368
العلمیۃ والإفتاء و الدعوۃ والإرشاد)فی الریاض ویمکن فی الحالات الاستثنائیۃ عقدھ فی مکان آخر ویجوز انعقاد الھیئۃ فی جلسات استثنائیۃ لبحث أمور ضروریۃ لا تقبل التأخیر(ص ٣٩٩)ویحدد رئیس(إدارات البحوث العلمیۃ والإفتاء والدعوۃ والإرشاد)بعد التشاور مع الأمین العام للھیئۃ وقت انعقاد الدورۃ العامۃ والدورۃ الإستثنائیۃ وتقوم رأاسۃ إدارات البحوث العلمیۃ والإفتاء والدعوۃ والإرشاد ضمن المعتمد فی میزانیتھا بتھیئۃ مکان ومستلزمات انعقاد الدورۃکما تؤمن وسائل السفر والإقامۃ لمن یقیم من أعضاء الھیئۃ خارج مقر انعقادھا.''[1] ’’ ہیئۃکبار العلماء کا اجلاس چھ ماہ میں ایک مرتبہ ریاض میں ادارہ تحقیقات اسلامیہ' افتاء، دعوہ اور ارشاد کی سربراہی میں اس کے ہیڈ آفس میں منعقد ہو گا۔ استثنائی حالات میں اس اجلاس کا انعقاد کسی اور جگہ بھی ممکن ہے۔ اسی طرح بعض ناقابل تاخیر ضروری امورکی تحقیق کے لیے ہیئۃکے عارضی اجتماعات بھی بلائے جا سکتے ہیں۔ ادارہ تحقیقات اسلامیہ برائے افتاء‘ دعوۃ اور ارشاد کے صدر ہیئۃ کے سیکرٹری جنرل کی مشاورت کے ساتھ میعادی اور استثنائی اجتماعات کے انعقاد کا وقت اور دورانیہ طے کریں گے۔ ادارہ تحقیقات اسلامیہ’افتاء‘ دعوۃ اور ارشاد کے سربراہان اپنے مالیاتی بجٹ کی روشنی میں اجتماع کی جگہ اور اس کے انعقاد کے لیے لازمی اشیاء کی فراہمی کے ذمہ دار ہوں گے۔ اسی طرح اس ادارے کے منتظمین جس شہر میں اجتماع منعقد ہو رہا ہے' دوسرے شہروں سے اس شہر میں آنے والے علماء کے قیام اور وسائل سفر کے بھی ذمہ دار ہوں گے۔ ‘‘ ہیئۃکے اجتماع کے انعقاد کے بارے شاہی فرمان میں یہ بھی طے تھا کہ اگرہیئۃکے دوتہائی اراکین موجود ہوں گے تواس صورت میں اجلاس کا انعقاد قانونی ہو گا۔ شاہی فرمان میں ہے: '' یصح انعقاد الھیئۃ بحضورثلثی أعضائھا.''[2] ’’اگر ہیئۃکے دو تہائی اراکین موجود ہوں گے تو اس کے اجلاس کا انعقاد درست ہو گا۔ ‘‘ ہیئۃکے اراکین کی معاشی ضروریات کی کفالت کی خاطران کا مناسب وظیفہ بھی مقرر کیا گیا جو اس وقت پچاس ہزار ریال تھا۔ شاہی فرمان کے الفاظ ہیں : '' تقرر مکافأۃ قدرھا خمسۃ آلاف ریال لکل عضو من أعضاء الھیئۃ عن کل دورۃ من دورات الھیئۃ ویتم صرفھا فی میزانیۃ رأاسۃ إدارات البحوث العلمیۃ والإفتاء والدعوۃ والإرشاد.''[3] ’’ ہیئۃ کے ہر اجلاس کے بدلے اس کے ہر رکن کا پچاس ہزار ریال معاوضہ مقرر کیا جاتا ہے اور اس کی ادائیگی ادارہ تحقیقات اسلامیہ برائے افتائ،دعوۃ اور ارشاد کی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ بجٹ سے کی جائے گی۔ ‘‘ ہیئۃکے فرائض شاہی فرمان میں ہیئۃ کے دو بنیادی فرائض متعین کیے گئے ہیں ایک تو یہ کہ جب ولی أمر یعنی بادشاہ کی طرف سے کسی مسئلے میں کوئی شرعی رائے طلب کی جائے توہیئۃ کے علماء اس بارے میں اپنی ابتدائی رائے بیان کریں اور پھر اس موضوع پر ایک تحقیقی دستاویز اور فتوی تیار کریں جو شرعی دلائل کی بنیاد پر قائم ہو۔ اس تحقیقی فتوے کی روشنی میں حکمران وقت اپنے اور ملک کے باشندوں کے لیے کوئی لائحہ عمل طے کرے گا۔ اسی طرح یہ ہیئۃ شاہ کو مختلف دینی مسائل میں ایک ناصحانہ جائزہ رپورٹ بھی پیش کر سکتی ہے تاکہ اس کی بنیاد پر اصلاح کا کام کیا جا سکے۔ [4]
Flag Counter