|
اسلامی نظریاتی کونسل کا قیام
١٩٧٣ء میں پاکستان کا نیا آئین مرتب کیا گیا' اس آئین کے آرٹیکل ٢ میں اسلام کو ریاست پاکستان کا سرکاری دین قرار دیا گیا۔ اس آئین کی دفعات ٢٢٧ تا ٢٣١ میں قوانین کی تشکیل میں ' اسلامی نظریاتی کونسل' کے کردار کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ آئین کے آرٹیکل ٢٢٨ میں کہا گیا ہے:
’’یوم آغاز سے نوے دن کی مدت کے اندر ایک اسلامی نظریات کی ایک کونسل تشکیل دی جائے گی جس کا اس حصہ میں بطور اسلامی کونسل حوالہ دیا گیا ہے۔ ‘‘ [1]
کونسل کی ہیئت ترکیبی
١٩٧٣ء کے آئین میں اسلامی نظریاتی کونسل کی ہیئت ترکیبی کے بارے مفصل وضاحت موجود ہے۔ ١٩٧٣ء کے آئین کی متعلقہ دفعات کا ترجمہ کچھ یوں ہے:
’’اسلامی کونسل کم از کم آٹھ اور زیادہ سے زیادہ بیس ایسے ارکان پر مشتمل ہوگی جسے صدر ان اشخاص میں سے مقرر کرے' جنہیں اسلام کے اصولوں اور فلسفہ کا' جس طرح کہ قرآن پاک اور سنت نبوی میں ان کا تعین کیا گیا ہے' علم ہو یا پاکستان کے اقتصادی ' سیاسی' قانونی اور انتظامی مسائل کا فہم و ادراک ہو۔ ‘‘[2]
آئین ٢٢٨کی اگلی ذیلی شق(٣)کی رو سے یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ کونسل کے کم از دو ارکان سپریم کورٹ یا کسی ہائی کورٹ کے حاضر سروس یا سابق جج ہوں گے۔ اسی طرح کم از کم ایک خاتون رکن کا ہونا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے اور کونسل کے ارکان میں کم از کم چار اسلامی علوم کی تدریس و تحقیق کے کم از کم پندر سالہ تجربے کے حامل ہونے چاہئیں۔ علاوہ ازیں یہ بھی طے پایا کہ کونسل کی تشکیل میں مختلف مکاتب فکر کو نمائندگی حاصل ہو گی۔
کونسل کے فرائض منصبی
٧٣ء کے آئین میں آرٹیکل ٢٢٩ کے تحت یہ بات بھی موجود ہے کہ صدر پاکستان یا کسی صوبے کے گورنر کسی بھی معاملے میں کونسل سے یہ سوال کر سکتے ہیں کہ آیا کوئی قانون اسلام کے منافی ہے یا نہیں ؟ اسی طرح قومی اسمبلی یا سینٹ یا کوئی صوبائی اسمبلی بھی اس طرح کا کوئی سوال کونسل کو بھجوا سکتی ہے بشرطیکہ اس کے ارکان کا کم از کم ٥/٢ اس کاتقاضا کرے۔ آئین کے آرٹیکل ٢٣٠ میں کونسل کے جو فرائض منصبی بیان کیے گئے ہیں وہ درج ذیل ہیں :
’’الف۔ مجلس شوری(پارلیمنٹ)اور صوبائی اسمبلیوں سے ایسے ذرائع اور وسائل کی سفارش کرنا جن سے پاکستان کے مسلمانوں کو اپنی زندگیاں انفرادی اور اجتماعی طور پر ہر لحاظ سے اسلام کے ان اصولوں اور تصورات کے مطابق ڈھالنے کی ترغیب اور امداد ملے جن کا قرآن پاک اور سنت میں تعین کیا گیا ہے۔
ب۔ کسی ایوان' کسی صوبائی اسمبلی' صدر یا گورنر کو کسی ایسے سوال کے بارے میں مشورہ دینا جس میں کونسل سے اس بابت رجوع کا کہا گیا ہوکہ آیا کوئی مجوزہ قانون اسلامی احکام کے منافی ہے یا نہیں۔
ج۔ ایسی تدابیر کی' جن سے نافذ العمل قوانین کو اسلامی احکام کے مطابق بنایا جا سکے' نیز ان مراحل کی' جن سے گزر کر محولہ تدابیر کا نفاذ عمل میں لانا ہو' سفارش کرنا اور۔
|