Maktaba Wahhabi

168 - 370
’’تم اپنے رشتہ دار اور غیر رشتہ دار میں حدود اللہ قائم کرو اور اللہ کے دین میں تمہیں کسی ملامت گر کی ملامت کا اندیشہ نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یَوْمٌ مِنْ اِمَامٍ عَادِلٍ اَفْضَلُ مِنْ عِبَادَۃِ سِتِّیْنَ سَنَۃً، وَ حَدٌّ یُقَامُ فِی الْاَرْضِ بِحَقٍ اَزْکٰی فِیْہَا مِنْ مَطَرِ اَرْبَعِیْنَ عَامًا)) [1] ’’عادل امام کا ایک دن ساٹھ سال کی عبادت سے افضل ہے اور زمین میں حق و انصاف قائم ہونے والی ایک حد چالیس سال کی بارش سے زیادہ ذرخیزی لاتی ہے۔‘‘ آئندہ صفحات میں ہم حد ارتداد، حد سرقہ، حد زنا، حد شراب نوشی اور حد قذف کے متعلق اس پہلو سے تحقیق نقل کریں گے کہ یہ حدود اسلامی اخلاق سے کس طرح مربوط ہیں ۔ ابتدا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے کرتے ہیں : ((لَا یَزْنِی الزَّانِی حِینَ یَزْنِی وَہُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا یَسْرِقُ السَّارِقُ حِینَ یَسْرِقُ وَہُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا یَشْرَبُ الْخَمْرَ حِینَ یَشْرَبُہَا وَہُوَ مُؤْمِنٌ)) [2] ’’زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن ہوتا ہے چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن ہوتا ہے اور شرابی جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن ہوتا ہے۔‘‘ ا… حد ارتداد اور اخلاق اسلامی: ارتداد سے مراد اسلام کے بعد کفر کا ارتکاب ہے، چاہے اسلام کے بعد کؤ ی اوردین اختیار کیا جائے یا نہ کیا جائے اسے مرتد ہی کہا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَ ہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنo﴾ (البقرۃ: ۲۱۷)
Flag Counter