|
نے حسن سے یہ حدیث روایت کی لیکن اس میں حضرت ابوہریرہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ۔" [1]
اطمینان قلب کے اسباب میں سےدوسرا سبب ہے:
ساری امیدیں اکیلے اللہ تعالیٰ سے باندھنا
"عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حَصِيْن قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنِ انْقَطَعَ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ كَفَاهُ أَمْرَ دُنْيَاهُ وَرَزَقَه مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنِ انْقَطَعَ إِلَي الدُّنْيَا وُكٍّلَ إِلَيْهَا." [2]
(عمران بن حصین نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اکیلے اللہ تعالیٰ سے تعلق استوار کرتا ہے۔(اللہ سےساری امیدیں وابستہ کرتا ہے) تو اللہ تعالیٰ دنیا کے معاملات میں اس کے لیے کافی ہو جاتاہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا اور جو شخص دنیا کوہی اپنا سب کچھ بنا لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیاداروں کے ہی سپرد کردیتا ہے۔ )
خدا کے سوا چھوڑ دے سب سہارے کہ ہیں عارضی زورکمزور سارے
"سُئِلَ ابْنُ الْمُبَارَكِ مَنْ اَحْسَنُ النَّاسِ حَالًا قَالَ مَنِ انْقَطَعَ اِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ." [3]
(ابن المبارک رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں حالت کے لحاظ سے سب سے زیادہ بہتر کون ہے؟ انہوں نے کہا : جو اکیلے اللہ تعالیٰ سے تعلق استوار کرتا ہے۔(اللہ سےساری امیدیں وابستہ کرتا ہے)۔
"ثَنَا سُلَيْمَانُ بْن بِلَالٍ قَالَ بَعَثَ بَعْضُ خُلَفَاءِ بَنِيْ اُمَيَّةَ اِلَى اَبِيْ حَاِزٍم فَرَدَّهُ فَقَالَ لَهُ يَا اَبَا حَازِمٍ خُذْ فَاِنَّكَ مِسْكِيْنٌ قَالَ كَيْفَ اَكُوْنُ
|