|
تجھے پالا ہے اس قوم نے آغوش محبت میں کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سردارا
غصہ ضبط کرنے کی فضیلت
غصہ پر ضبط کرتے ہوئے اسے پی جانا باوجود اس کے کہ وہ اس پرقادر ہو، تو پھر یہ عمل بڑی فضیلت اور درجہ والا ہےچنانچہ اس کی فضیلت بیان کرتے ہوئےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
( مَنْ کَظَمَ غَیْظًا وَہُوَ قَادِرٌ عَلٰی اَنْ یُّنَفِّذَہ، مَلأََ اللّٰہُ جَوْفَہُ اَمْناً وَ اِیْمَاناً ) [1]
(جو اپنا غصہ پی جائے باوجود اس کے کہ وہ اسے نافذ کرنے کی قدرت رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے پیٹ کو امن اور ایمان سے بھر دیتے ہیں ۔)
دوسری روایت میں ہے :
(مَا تَجَّرَّعَ عَبْدٌ مِنْ جُرْعَۃً اَفْضَلَ اَجْرًا مِنْ جُرْعَۃِ غَیْظٍ کَظَمَہَا اَبْتِغَائَ وَجْہِ اللّٰہِ) [2]
( بندے کا وہ غصے کا گھونٹ جسے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے پی جاتا ہے سب گھونٹوں سے افضل ہے۔)
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( مَنْ کَظَمَ غَیْظًا وَہُوَ قَادِرٌ عَلٰی اَنْ یُّنْفِّذَہ، دَعَاہُ اللّٰہُ عَلٰی رُؤُوْسِ الْخَلاَئِقِ حَتّٰی یُخَّیِرَہ، مِنْ اَیِّ الْحُوْرِ شَاءَ)) [3]
(جو اپنا غصہ پی جائے باوجود اس کے کہ وہ اسے نافذ کرنے کی قدرت رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے تمام مخلوقات کے سامنے بلا کر اس بات کا اختیار دیں گے کہ وہ حوروں میں سے جونسی حور چاہتا ہے اپنے لئے منتخب کر لے)
|