|
والد کو اسی لفظ سے خطاب کیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ارشادِ قرآنی ہے :
﴿ وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ اِبْرَاہِیْمَ ط اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَبِیًّا ٭ اِذْ قَالَ لِاَبِیْہِ یٰٓاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَلَا یُبْصِرُ وَلَا یُغْنِیْ عَنْکَ شَیْئًا٭ یٰٓاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآئَ نِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِکَ فَاتَّبِعْنِیٓ اَہْدِکَ صِرَاطًا سَوِیًّا ٭ یٰٓاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطَانَ اِنَّ الشَّیْطَانَ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا ٭ یٰٓاَبَتِ اِنِّیْ اَخَافُ اَنْ یَمَسَّکَ عَذَابٌ مِنَ الرَّحْمٰنِ فَتَکُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا ﴾( مریم :41۔45) ترجمہ : اس کتاب میں ابراہیم کا قصّہ بیان کرو، بیشک وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھے، جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا :
ابّا جان ! آپ کیوں ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپکے کچھ کام آسکتی ہیں ؟ ابّاجان ! میرے پاس ایسا علم آیا ہے جو آپکے پاس نہیں آیا، آپ میری اتباع کریں میں آپکو سیدھا راستہ دکھاؤں گا. ابّا جان ! آپ شیطان کی عبادت نہ کریں، شیطان تو رحمن کا نافرمان ہے. ابّا جان ! مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمن کے عذاب کا شکار ہوکر شیطان کے ساتھی بن جائیں۔
باپ کو خطاب کرنے اور انہیں حق کی دعوت دینے کا اس سے بھی پیارا اسلوب اور کیا ہوسکتا ہے ؟ لیکن باپ آذر کی بد نصیبی تھی کہ اس نے اپنے لختِ جگر کی باتوں پر دھیان نہیں دیا بلکہ الٹا دھمکی دی اور جواب میں" بیٹا " کے لفظ سے خطاب کرنے کے بجائے کسی اجنبی آدمی کی طرح لفظ"ابراہیم"سے خطاب کیا، قرآن مجید کے واقعات میں یہ واحد باپ ہے جس نے اپنے بیٹے کو"بیٹا" کہنا گوارہ نہیں کیا بلکہ کہا: ﴿ قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِہَتِیْ یٰآ اِبْرَاہِیْمُ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَہِ
|