|
دعائے قنوت
سیدنا حسن بن علی رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ کلمات سکھائے کہ میں انہیں قنوت وتر میں کہا کروں (وہ کلمات یعنی دعاء قنوت یہ ہے جووتر کی آخری رکعت میں قبل یا بعد رکوع پڑھتے ہیں:
"اللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا أَعْطَیْتَ وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ إنَّکَ تَقْضِیْ وَلاَ یُقْضٰی عَلَیْکَ وَإنَّہٗ لاَ یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَلاَ یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَ تَعَا لَیْتَ" (ابوداؤد:1427)ترجمہ : یاالٰہی! تو نے جنکو ہدایت دی ہے ان میں مجھے بھی ہدایت دے اور تو نے جن کو عافیت دی ہے ان میں مجھے بھی عافیت دے اورجنکا تو خود والی بناہے ان میں میرا والی بھی بن۔ اور برکت دے میرے لئے اس چیز میں جو تو نے مجھے عطا کی۔اور مجھے ان چیزوں کی برائی سے بچا جن کے تو نے فیصلے کئے ہیں۔ کیونکہ تو جو چاہے فیصلے کرتاہے اور تجھ پر کسی کے فیصلے نہیں ہو سکتے۔بیشک جسے تو دوست رکھے وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتااور وہ کبھی عزت نہیں پاسکتا جس سے تجھے دشمنی ہوجائے۔اے ہمارے رب! توبابرکت ہے اور بلند وبالا ہے۔
آیۃ الکرسی
اللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ج لَا تَاخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ ط لَہٗ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْاَرْ ضِ ط مَنْ ذَالَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ط یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ ج وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْ ئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَا شَآئَ
|