’’راستبازی اختیار کرو،باہمی محبت کو بڑھاؤ، لوگوں کو خدا کی طرف سے بشارت پہنچاؤ،عمل تو کسی کو بھی جنت میں نہیں لے جاسکتا ۔‘‘
اخلاق رذیلہ سے نہی اور اخوت کا حکم
’ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللّٰہ إِخْوَانًا ‘[1]’’خبردار! بدگمانی کو اپنی عادت نہ بنانا۔بدگمانی میں تو جھوٹ ہی جھوٹ ہوتا ہے۔بے بنیاد باتوں پر کان نہ لگاؤ، اوروں کے عیب نہ تلاش کرو،آپس میں بغض نہ رکھو،کسی سے روگردانی نہ کرو،اے اللہ کے بندو،آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو(جیسا کہ تم سب اللہ کے بندے ہی ہو۔)۔‘‘
ہمسایہ اور مہمان کا حق
’ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰہ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلا يُؤْذِ جَارَہ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰہ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَہ ‘[2]’’جو کوئی شخص خدا پر اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے،وہ اپنے ہمسایہ کو ایذا نہ دیا کرے، جو کوئی شخص خدا پر قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ مہمان کی عزت کیا کرے۔‘‘
کلام اور خاموشی
’من کان یؤمن باللّٰہ والیوم الاخر فلیقل خیراً اَوْلِیَصُمُتُ‘[3]
’’جو کوئی شخص خدا اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے اسے لازم ہے بات کہے تو اچھی کہے ورنہ خاموش ہی ہے۔‘‘
|