مادے کو پڑھنا ہے جس کی وہ اشد ضرورت محسوس کرتا ہے۔
یہاں ان والدین کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے! جو بچوں کو عصری تعلیم دلانے کے خواہاں ہیں ، وہ بچوں کو پہلے دینی تعلیم دلائیں ، اسلامی آداب وحقوق سے واقفیت کرائیں تاکہ وہ صوم وصلاۃ کے پابند ہوں ، اسلام کے جملہ حقوق بجالائیں اور والدین کی خدمت کریں ، اس کے بعد بچے کو عصری تعلیم دلائیں اور اس حد تک پڑھائیں کہ قوم وملت کے لیے اچھی خدمات انجام دے سکیں ۔
جیسا کہ گزشتہ صفحات میں کہا گیا ہے کہ طفولیت سے لے کر بلوغت تک بچے کی تعلیم وتربیت پہ دھیان دینا ہے، ان اوقات میں جتنی چیزوں کا ان کو عادی بنانا یا سیکھانا ہے، وہ سب کے سب تعلیم کے اندر ہی آتے ہیں اور انہی محدود وقتوں میں بچے کو ساری چیزوں کا پابند عمل بنانا ہے ، کیونکہ بلوغت کے بعد جب لڑکے کی شادی ہوجاتی ہے تو والدین کے سر سے ان کا بوجھ قدرے ہلکا ہوجاتا ہے، اس سلسلہ میں چند چیزیں پیش خدمت ہیں ۔
۹۔بچوں کو نماز کی تعلیم :
انسان کی تخلیق کا عظیم مقصد اللہ جل شانہ کی عبادت وبندگی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ﴾ (الذاریات: ۵۶)
’’میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں ۔‘‘
اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے زندگی اور موت کا سلسلہ اس لیے جاری کیا کہ وہ ہمیں آزمائے اور دیکھے کہ نیک اور صالح اعمال کے اعتبارسے کون اچھا اور بہتر ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿تَبَارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌo الَّذِیْ خَلَقَ
|