|
مسند احمد بن حنبل ہی کی ایک دوسری روایت میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ ’’غرباء‘‘ (اجنبی) کون لوگ ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’بہت سارے بُرے لوگوں میں کچھ صالح اور نیک لوگ،جن کی نافرمانی کرنے والے فرمانبرداروں سے زیادہ ہوں گے۔‘‘[1]
دوسری سند سے مروی ایک روایت میں ہے:
’’لوگوں میں بگاڑ پیدا ہونے پر ان کی اصلاح کرنے والے۔‘‘[2]
چنانچہ اہل سنت،اہل بدعت،ہوا پرستوں اور گمراہ فرقوں کے درمیان اجنبی ہیں۔
۸۔ اہل سنت ہی حاملین علم ہیں : اہل سنت ہی دراصل حاملین علم ہیں،جو اس علم سے غلو پسندوں کی تحریف،باطل پرستوں کی تراش خراش (کاٹ چھانٹ) اور جاہلوں کی تاویلات کو دور کرتے ہیں۔اسی وجہ سے ابن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’لوگ (اہل علم) اسناد کے بارے میں نہیں پوچھتے تھے،لیکن جب فتنہ رونما ہوا،تو کہنے لگے: ’’سَمُّوْا لَنَا رِجَالَکُمْ‘‘ بیان کرنے والوں کے نام بتاؤ‘‘ چنانچہ دیکھا جاتا اگر اہل سنت کی باتیں ہوتیں تو مان لی جاتیں اور اگر اہل بدعت کی باتیں ہوتیں تو ناقابل تسلیم قرار دی جاتیں۔‘‘[3]
۹۔ اہل سنت وہ لوگ ہیں جن کی جدائی سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے: حضرت ایوب سختیانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’مجھے اہل سنت میں سے کسی کی وفات کی خبر ملتی ہے تو مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میرے جسم کا کوئی حصہ کھوگیا ہو۔‘‘[4]
|