Maktaba Wahhabi

94 - 156
موزوں پر مسح موزوں پر مسح کی مشروعیت کی دلیل: موزوں پر مسح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سنت سے ثابت ہے۔ امام نووی کہتے ہیں کہ ’’جن فقہاء کی اجماع میں کچھ حیثیت شمار کی جاتی ہے، ان کا موزوں پر مسح کے جواز پر اتفاق ہے، خواہ حالت سفر کی ہو یا قیام، خواہ ضرورت ہو یا بناء ضرورت۔ حتی کہ اس خاتون کے لیے بھی جائز ہے جو گھر کے لیے لازم و ملزوم ہے، اور اس اپاہج کے لیے بھی کہ جو چلنے کی استطاعت نہیں پاتا۔ اس کا شیعہ اور خوارج نے انکار کیا ہے۔ اور ان کے اختلاف کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ‘‘ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں کہا ہے کہ ’’ کئی ایک محدثین نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ موزوں پر مسح کی روایات متواتر ہیں ۔ ان میں سے کچھ نے اس کے راویوں کو جمع کیا ہے تو ان کی تعداد اسّی سے تجاوز کرگئی۔ ان میں عشرہ مبشرہ بھی شامل تھے۔ (ان کی بات مکمل ہوئی)۔‘‘ مسح کے حوالے سے احادیث میں سے قوی ترین وہ روایت ہے جسے احمد ، بخاری و مسلم، ابو داؤد اور ترمذی نے ھمام نخعی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ’’جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ ایسا کررہے ہیں حالانکہ آپ نے پیشاب بھی کیا ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ جی، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور اپنے موزو ں پر مسح کیا۔ ‘‘ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ انھیں یہ حدیث بڑی پیاری لگا کرتی تھی کیونکہ جریر رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنے کاواقعہ اجماع میں کیسے افرادکا اختلاف اثر انداز نہیں ہوتا؟ جریر بن عبد اللہ البجلی رضی اللہ عنہ کی حیات مبارکہ کے بارے میں چند سطریں تحریر کیجئے۔ اس کے لیے آپ کتب رجال سے مدد لے سکتے ہیں ۔ سورہ مائدہ کے نزول کے بعد واقع ہوا۔ یعنی جریر رضی اللہ عنہ ہجرت کے دسویں سال اس
Flag Counter