Maktaba Wahhabi

68 - 156
جب کسی بھی طریقہ سے منہ اور ناک میں پانی پہنچایا جائے تو کلی اور ناک میں پانی چڑھانا ثابت ہوجائے گا۔ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کو اکٹھا کیا کرتے تھے۔ کیا آپ جانتے ہیں ؟ کہ عبد اللہ بن زیدبن عاصم المازنی رضی اللہ عنہ عباد بن تمیم کے چچا تھے۔ آپ سے وضو کے طریقہ میں روایت مروی ہے اس لیے انھیں ’’صاحب حدیث الوضوء‘‘ بھی کہہ دیا جاتا ہے۔ ابن ام عمارہ کے نام سے بھی معروف ہیں ۔ آپ کے بدری صحابی ہونے میں اختلا ف ہے۔ البتہ آپ رضی اللہ عنہ نے وحشی کے ساتھ مل کر مسیلمہ کذاب کو قتل کیا تھا۔ یہ عبد اللہ بن زید وہ نہیں ہیں جن سے اذان کیابتدا والی روایت مروی ہے۔ عبد اللہ بن زید سے مروی ہے کہ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چلوؤں سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔‘‘ متفق علیہ۔ نیز جو شخص روزہ دار نہ ہو اس کے لیے ان دونوں میں مبالغہ کرنا مسنون ہے کیونکہ لقیط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے وضو کے بارے میں بتلائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ اچھی طرح وضو کیجئے اور اپنی انگلیوں کے مابین خلال کیجئے۔ اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کیجئے إلا کہ آپ روزے سے ہوں ۔‘‘ اسے خمسہ نے بیان کیا ہے اور امام ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے۔ ۶۔ داڑھی کا خلال: مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کے بارے میں تلاش کیجئے کہ آپ کہاں کے رہائشی تھے؟ کب وفات پائی؟ ان کے شاگرد کون تھے؟ نیز کیا ان کے والد بھی صحابی تھے یا نہیں ؟ عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی داڑھی کا خلال کیا کرتے تھے۔‘‘ رواہ ابن ماجہ والترمذی۔ امام ترمذی نے اسے صحیح بھی قرار دیا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو پانی کا ایک چلو لیتے اور اسے اپنی ٹھوڑی کے نیچے داخل کرتے۔ اور فرماتے کہ ’’ مجھے میرے رب نے اس طرح تلقین کی ہے۔‘‘ رواہ ابو داؤد والبیہقی والحاکم
Flag Counter