|
فرمان ہے کہ :
﴿ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا ﴾ (النساء:۴۳)
’’ اے ایمان والو! جب تم نشے میں مست ہو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ، جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو اور جنابت کی حالت میں جب تک کہ غسل نہ کر لو، ہاں اگر راہ چلتے گزر جانے والے ہو تو اور بات ہے۔ ‘‘
اور غسل کی حقیقت تمام اعضا کو دھونا ہی ہے۔
غسل کی سنتیں
غسل کرنے والے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کا خیال رکھنا مسنون ہے۔ اس لیے وہ ابتداء: ۱) تین مرتبہ ہاتھ دھونے سے کرے گا ۔ ۲) پھر شرم گاہ دھوئے گا۔ ۳) پھر نماز کی طرح کا مکمل وضو کرے گا البتہ غسل مکمل ہونے پر تک مؤخر رکھے گا۔ بشرطیکہ وہ ٹب وغیرہ میں غسل کررہا ہو۔ ۴) پھر وہ اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہائے گا ساتھ میں بالوں کا خلال بھی کرے گا تاکہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔ ۵) پھر وہ سارے جسم پر پانی بہا ئے گا داہنے سے بائیں ۔ نیز بغلوں ، کانوں کے سوراخ، ناف اور پاؤں کی انگلیوں کا خاص خیال رکھے گا۔ اور جسم کو جہاں تک ممکن ہو رگڑے گا۔ ان تمام باتوں کی اصل عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی یہ روایت ہے: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا اردہ فرماتے تو ابتداء ہاتھ دھونے سے کرتے۔ پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں پر پانی ڈالتے اور شرم گاہ دھوتے۔ پھر نماز کا سا وضو کرتے۔ پھر پانی لیتے اور اپنے انگلیوں کو بالوں کی جڑوں میں داخل کرتے۔ یہاں تک کہ آپ محسوس کرتے کہ پاک ہوچکے ہیں تو سر پر تین چلو بہا لیتے پھر اپنے تمام جسم پر پانی بہا لیتے۔‘‘ رواہ البخاری ومسلم۔ اور بخاری ومسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ’’پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں سے بالوں کا خلال کرتے۔ یہاں تک کہ آپ محسوس کرتے کہ آپ اپنی جلد کو تر کرچکے ہیں تو سر پر تین مرتبہ پانی بہا لیتے۔‘‘عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ایک روایت
|