|
ہے کہ وہ ایک ہی تیمم کے ساتھ جتنے چاہے فرائض اور نواجل ادا کرے۔ کیونکہ اس کا حکم وضو کے حکم کا سا ہے، برابر برابر۔ کیونکہ ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ سطح زمین مسلمان کے لیے پاکی کا ذریعہ ہے اگرچہ وہ دس سال پانی نہ پائے تو جب وہ پانی پا لے تو اسے اپنی جلد پر لگائے۔ کیونکہ یہی اس کے لیے بہتر ہے۔‘‘ رواہ احمد والترمذی اور امام ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
9۔ تیمم کے نواقض:
تیمم کو ہر وہ چیز توڑ دے گی جو وضو کو توڑتی ہے کیونکہ یہی اسی کا متبادل ہے۔ نیز اسے پانی کا میسر آنا بھی توڑ دے گاجس کے پاس پانی نہیں تھا، یا اس کے استعمال پر قدرت بھی اسے توڑ دے گی اس کے لیے جو اس سے عاجز ہو۔ لیکن جب اس نے تیمم کے ساتھ نماز پڑھی اور پھر پانی پایا یا نماز سے فراغت کے بعد پانی کے استعمال پر قادر ہوا تو اس پر نماز کو لوٹانا ضروری نہیں ہے۔ اگرچہ وقت باقی ہی ہو۔ کیونکہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ’’دو آدمی سفر کے لیے نکلے تو نماز کا وقت ہوگیا جبکہ ان کے پاس پانی بھی نہیں تھا تو انھوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھ لی۔ پھر انھوں نے وقت میں ہی پانی پا لیا تو ان میں سے ایک نے وضو اور نماز دھرا لی جبکہ دوسرے نے نہ دھرائی۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جس نے نماز نہیں دھرائی تھی فرمایا کہ ’’آپ نے سنت کو پا لیا اور آپ کو نماز کافی ہوجائے گی‘‘ اور اس شخص کو جس نے وضو کیا اور نماز دھرائی تھی فرمایا کہ ’’آپ کے لیے دھرا اجر ہے۔‘‘رواہ ابو داؤد والنسائی
اب دھرا اجر لینے کے لیے کیا یہ جائز ہے کہ پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم کے ساتھ نماز پڑھی جائے اور جب پانی میسر ہو تو پھر وضو کرکے دھرا لی جائے؟اگر نہیں تو کیوں ؟
عمران رضی اللہ عنہ کی حدیث کے پیش نظر کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ شرعی غسل میں تمام جسم پر محض پانی بہا لینا ہی کفایت کرجاتا ہے؟ اس بارے میں اپنے استاذ کی مدد سے فریقین کے دلائل کا
|