|
میت نے اگر کوئی وصیت کی ہو تو وہ صدقۂ جاریہ ہوسکتی ہے یا اس نے کوئی چیز وقف کردی ہو اور اس کی موت کے بعد اس سے فائدہ اٹھایا جارہا ہو تو وہ صدقۂ جاریہ ہے۔ اسی طرح علم بھی اس کی کمائی ہے، لہٰذا علم نافع بھی صدقۂ جاریہ ہے۔ اسی طرح جب اس کی اولاد اس کے لیے دعا کرے، تو اس کا بھی اسے فائدہ ہوتا ہے۔ اگر ہم سے پوچھا جائے کہ اگر میں اپنے والد کی طرف سے دو رکعت نماز پڑھوں تو یہ افضل ہے یا اپنی طرف سے دو رکعت نماز پڑھ کر اپنے والد کے لیے دعا کروں تو یہ افضل ہے؟ تو ہم کہیں گے کہ افضل یہ ہے کہ اپنی طرف سے دو رکعت نماز پڑھو اور اپنے والد کے لیے دعا کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا:
((أَوْ وَلَدٍ صَالَحِ یَدْعُو لَہُ))
’’یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔‘‘[1]
آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ یا نیک اولاد جو اس کی طرف سے نماز پڑھے یا کوئی دوسرانیک کام کرے۔
|