| لأنہ سبحانہ لاسمی لہ ولاکفو لہ ولاندلہ ولایقاس بخلقہ سبحانہ وتعالیٰ فانہ سبحانہ أعلم بنفسہ وبغیرہ وأصدق قیلا وأحسن حدیثا من خلقہ۔ ترجمہ: اس لئے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا نہ کوئی ہم نام ہے ، نہ کوئی مثل ہے نہ کوئی مشابہ ومماثل ہے اور نہ ہی اسے مخلوق کے ساتھ قیاس کیا جاسکتا ہے،اللہ تعالیٰ اپنی ذات کو اور دوسروں کو سب سے زیادہ جاننے والا ہے اور پوری خلق میں سب سے زیادہ سچی اور اچھی بات کہنے والا ہے۔ عبارت کی تشریح … شرح… مصنف رحمہ اللہ نے اھل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ بتلادیا کہ وہ بلاتکییف اور بلاتمثیل اللہ تعالیٰ کی صفات پر ایمان لائے ہیں ،تو اب ان کے اس عقیدے کی تعلیل وتوجیہ پیش کررہے ہیں یعنی یہ بتلارہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی’’سمی‘‘یعنی ہم نام نہیں ہے ،مطلب یہ ہے کہ ایسا کو ئی شخص نہیں جو اللہ تعالیٰ کے کسی نام کا حقدار ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورئہ مریم میں ارشادفرمایا: { ھَلْ تَعْلَمُ لَہٗ سَمِیًّا } ’’ کیا تم کوئی اس کا ہم نام جانتے ہو ‘‘ یہ استفہام انکاری ہے معنی یہ ہے کہ کوئی اللہ تعالیٰ کا ہم نام یا مماثل نہیں ہے ،اسی طرح کوئی اللہ تعالیٰ کا ’’کفو‘‘ یعنی ہم سر و مثل نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورئہ اخلاص میں فرمایا: { وَلَمْ یَکُنْ لَہٗ کُفُوًا اَحَدٌ } ’’ اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے‘‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا کوئی ’’ند‘‘ یعنی نظیر وشبیہ نہیں ہے ،چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورئہ بقرۃ(۲۲) |
| Book Name | عقیدہ فرقہ ناجیہ |
| Writer | فضیلۃ الشیخ الدکتور صالح بن فوزان بن عبداللہ الفوزان |
| Publisher | مکتبہ عبداللہ بن سلام لترجمۃ کتب الاسلام |
| Publish Year | |
| Translator | علامہ عبداللہ ناصر رحمانی |
| Volume | |
| Number of Pages | 352 |
| Introduction | زیر نظر کتاب جس کے مصنف الدکتور صالح بن الفوزان رحمہ اللہ ہیں ، یہ کتاب دراصل شیخ السلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی مشہور زمانہ کتاب العقیدۃ الواسطیۃ کی جامع ترین شرح ہے۔ اس کا اردو ترجمہ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی صاحب حفظہ اللہ نے کیا ہے۔کتاب کا بنیادی موضوع اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کا قرآن وحدیث کے ادلہ سے اثبات ہے، نیزیہ کہ اسماء وصفات پر منہج سلف صالحین صحابہ وتابعین کے مطابق بلاتکییف ،بلاتحریف، بلاتشبیہ اور بلاتأویل ایمان لانا ضروری ہے۔ ایمان باللہ جو ایمان کا رکنِ اول ہے کی اساس توحید ہے اور فہمِ توحید،اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کے فہم پر موقوف ہے،لہذا اس علم پر بہت توجہ کی ضرورت ہے ، زیر نظر کتاب اس باب میں انتہائی نافع کتاب ہے۔ |