Maktaba Wahhabi

273 - 363
علماء جن کے نزدیک فضائل اعمال وغیرہ میں ضعیف حدیث چند شرائط کے ساتھ مقبول ہے علماء کا یہ گروہ فضائل اعمال، ترغیب و ترہیب اور مناقب وغیرہ میں ضعیف حدیث کو قبول تو کرتا ہے لیکن اس کے لئے چند شرائط کی پابندی کو لازم قرار دیتا ہے، جو کہ حسب ذیل ہیں: ’’1- حدیث کا ضعف شدید نہ ہو، لہٰذا کذاب، متہم بالکذب اور فحش غلطی کرنے والے راوی کی حدیث خارج ہو جائے گی جب کہ وہ روایت کرنے میں منفرد ہو۔ 2- وہ حدیث کسی اصل عام کے تحت داخل ہو لہٰذا ہر موضوع (خانہ ساز) حدیث خارج ہو جائے گی کیونکہ اس کے لئے کوئی اصل نہیں ہوتی۔ 3- اس حدیث پر عمل کرتے وقت اس کے ثبوت کا اعتقاد نہیں رکھنا چاہیے تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کسی ایسی بات کا انتساب نہ ہو جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد نہیں فرمایا ہے۔‘‘ [1] واضح رہے کہ علماء کے اس موقف کو شیخ محمد جمال الدین قاسمی رحمہ اللہ نے ’’ائمہ کے نزدیک معتمد مذہب‘‘[2]قرار دیا ہے، لیکن حق یہ ہے کہ ان اہم اور دقیق شرائط قبول کا التزام و اہتمام ضعیف حدیث کے دائرہ عمل کو تنگ کرتا ہے نیز بالفعل ان تمام شرائط کا التزام ناممکن ہے کیونکہ ضعیف حدیث پر عمل کرنے والے ہر شخص سے اس حدیث کے پورے کوائف کی معرفت کی امید رکھنا باعث ہے، لہٰذا پہلی شرط ناقابل عمل ہوئی، پھر کسی اصل عام کے تحت داخل ہونے سے عمل اس ضعیف حدیث پر نہیں بلکہ اس اصل عام کے تحت ہوتا ہے، چنانچہ معلوم ہوا کہ دوسری شرط کے
Flag Counter