جھوٹے نبی اور اس کی تصدیق کرنے والے کا حکم؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی معنی اور تشریح میں دعویٔ نبوت کفر وارتداد ہے۔ اس پر کتاب وسنت کے دلائل کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کا اجماع بھی ہے۔
علامہ حلیمی رحمہ اللہ (404ھ) فرماتے ہیں :
إِنْ تَمَنّٰی فِي زَمَانِ نَبِیِّنَا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَبَعْدِہٖ أَنْ لَّوْ کَانَ نَبِیًّا ۔۔۔ وَہٰذَا کُفْرٌ ۔
’’اگر کوئی عہد نبوی میں یا اس کے بعد نبی ہونے کی تمنا کرے۔۔۔ تو یہ کفر ہے۔‘‘
(المِنھاج في شعب الإیمان : 3/106)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
إِنَّ مُسَیْلِمَۃَ بَعَثَ رَجُلَیْنِ أَحَدُہُمَا ابْنُ أُثَالِ بْنِ حُجْرٍ، فَقَالَ
|