| علامہ مناوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ’’معنی یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زیارت کے لیے عید کی طرح اجتماع منع ہے۔ یا تو مشقت ختم کرنے کے لیے ایسا فرمایا گیا ہے یا اس خدشہ سے کہ لوگ تعظیم کی حد سے گزر جائیں گے ۔ ‘‘ (فیض القدیر، تحت الحدیث : 5016) علامہ طیبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : نَہَاہُمْ عَنِ الِْاجْتِمَاعِ لَہَا اجْتِمَاعَہُمْ لِلْعِیدِ نُزْہَۃً وَّزِینَۃً، وَّکَانَتِ الْیَہُودُ وَالنَّصَارٰی تَفْعَلُ ذٰلِکَ بِقُبُورِ أَنْبِیَائِہِمْ، فَأَوْرَثَہُمُ الْغَفْلَۃَ وَالْقَسْوَۃَ ۔ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قبر پر اس طرح جمع ہونے سے منع فرمایا، جس طرح عید کے موقع پر سیر و تفریح اور زینت کے ساتھ جمع ہوا جاتا ہے۔ یہود ونصاریٰ انبیا کی قبروں پر ایسا کرتے تھے۔ اس چیز نے انہیں غافل اور سخت دل بنا دیا تھا۔ ‘‘ (مرقاۃ المَفاتیح للقاري : 3/14) علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں : ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر مسجد بنانے سے منع فرمایا اور ایسا کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبریں پختہ بنانے، بلند کرنے، سجدہ گاہ بنانے، ان پر نماز ادا کرنے اور ان کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھنے اور ان پر چراغاں کرنے سے منع فرمایا ہے اور انہیں برابر کرنے کا حکم دیا ہے، انہیں میلہ گاہ بنانے اور ان کی طرف رخت ِ سفر باندھ کر جانے سے منع فرمایا ہے |