| عرس کی شرعی حیثیت قبروں پر عرس اور میلوں کا انعقاد بدعت ، حرام اور ناجائز ہے، یہ دراصل ہندؤوں کی نقالی ہے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح نافرمانی، سلف صالحین کی مخالفت، حدود ِ شرع سے تجاوز اور انہدامِ اسلام ہے ۔ عقیدہ وعمل کی بہت سی خرابیاں اسی سے وابستہ ہیں ۔ یہ قریب بہ شرک یا بے شمار بدعات و خرافات کا موجب ضرور ہے۔ اس سے مشرکانہ عقائد و اعمال پروان چڑھتے ہیں ۔ اس فعلِ بد کو سند جواز دینا در حقیقت احکامِ شریعت کی کھلم کھلا توہین ہے۔ عرسوں اور میلوں کا اصل سبب جہالت اور غلو ہے۔ اس لیے یہ قبر کے متعلق فتنوں میں بڑا فتنہ ہے۔ شرک کے قلع قمع کے لیے اس سے اجتناب ضروری ہے۔ یہ وقت اور قیمتی مال کا ضیاع ہے ۔ بعض دوستوں نے اسے جوا ز کا لبادہ پہنانے کی کوشش کی ہے : ’’عرس کے لغوی معنی ہیں شادی، اس لیے دولہا اور دُلہن کو عروس کہتے ہیں ، بزرگانِ دین کی تاریخ وفات کو اس لیے عرس کہتے ہیں کہ مشکوٰۃ باب اثبات عذاب القبر میں ہے کہ جب نکیرین میت کا امتحان لیتے ہیں اور وہ کامیاب ہوتا ہے، توکہتے ہیں :نَمْ کَنَوْمَۃِ الْعَرُوسِ الَّتِي لَا یُوقِظُہٗ إِلَّا أَحَبُّ أَہْلِہٖ إِلَیْہِ تو اس دلہن کی طرح سو جا، جس کو سوائے اس پیارے کے کوئی |