Maktaba Wahhabi

304 - 313
لَا یُدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِيْ قَلْبِہِ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبَرٍ [1] ’’جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘ اس لیے کسی صحیح اور سچی بات کا انکار اور کسی مسلمان بھائی کو حقیر سمجھنا تکبر ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَ اِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُہٗ جَہَنَّمُ وَ لَبِئْسَ الْمِہَادُ ﴾ [2] ’’اور جب اسے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو اس کی عزت اسے گناہ میں پکڑے رکھتی ہے، سو اُسے جہنم ہی کافی ہے اور یقینا وہ برا ٹھکانہ ہے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس کی وضاحت میں فرماتے ہیں: إِنَّ مِنْ أَکْبَرِ الذُّنُوْبِ عِنْدَ اللّٰہِ أَنْ یّقُوْلَ الرَّجُلُ لِأَخِیْہِ: اِتَّقِ اللّٰہَ۔ فَیَقُوْلُ: عَلَیْکَ بِنَفْسِکَ، أَنْتَ تَأَمُرُنِيْ![3] ’’اللہ کے ہاں گناہوں میں سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے بھائی سے کہے: اللہ سے ڈر، تو وہ کہے: تم اپنی فکر کرو۔ تم مجھے حکم دیتے ہو!‘‘ گویا وہ اپنی عزت کے منافی سمجھتا ہے کہ کوئی اسے گناہ سے روکے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقین کرے بلکہ الٹا اسے حقیر سمجھتے ہوئے کہتا ہے کہ تم کون ہوتے ہو مجھے روکنے ٹوکنے والے۔ یہی وہ تکبر ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردار کیا ہے۔ اور یہی بالآخر انسان کو کفر وشرک میں مبتلا کردیتا ہے۔ ﴿وَ مَکْرَ السَّیِّیِٔ ﴾ ’’اور بری تدبیر‘‘، جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زک پہنچانے کے لیے کرتے تھے۔ بعض نے کہا ہے کہ ﴿اِسْتِکْبَارًا فِی الْاَرْضِ وَمَکْرَ السَّیِّیِٔ﴾
Flag Counter