| امراض سے ہوجائے۔[1]اس دعا کی قبولیت کا الہام بھی مرزا جی کو ہوگیا تھا۔[2]علمائے امت کے اس جواب میں مرزائی مناظرین مختلف حیلوں بہانوں سے بات کو ٹالنے کی کوشش کرتے۔مگر یہاں ان سے بات بنائے نہیں بنتی تھی۔الغرض اس میدان حرب میں شکست قادیانی اکابرین کا مقدر رہی رہے۔ پون صدی تک یہ حوالہ قادیانی مناظرین کے حلق میں ہڈی کی طرح اٹکارہا ہے،آخر سوچ وبچار کے بعد اپنی ہزیمت کو دھونے اور رسوائی کو مٹانے اور ذلت کو چھپانے اور اپنےناخواندہ حواریوں کو مطمئن کرنے کے لیےحال میں ’’حیات ناصر‘‘ کا تازہ ایڈیش شائع کیا ہے، اور اس حوالے میں تحریف کردی ہے۔اصلاح شدہ عبارت یہ ہے: ’’حضرت(مرزا)صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جاکر سوچکا تھا،جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا،جب میں حضرت صاحب کےپاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا اور دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہوگیا۔‘‘[3] پہلے ایڈیشن کی عبارت اور اس عبارت کاموازنہ کریں ۔ان کےدرمیان زمین و آسمان کا فرق ہے،جو کھلی تحریف اور بددیانتی ہے۔میر ناصر نواب کی وفات 19 ستمبر 1924 کے تین سال بعد دسمبر 1927ء کو ہوئی ہے۔مرزا جی کے مقرب حواری اور قادیانی گروپ کا پہلا مؤرخ یعقوب علی عرفانی ہے،اس نے میر صاحب کی سوانح حیات شائع کی ہے جس میں یہ روایت درج تھی۔ اب جبکہ یعقوب علی عرفافی(ولادت نومبر 1875ء وفات دسمبر1957ء)کو فوت ہوئے نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرچکا ہے۔تو بعد کے ناشرین نے کس دلیل سے اس حوالے کو خارج کیا ہے؟مزید بددیانتی یہ کہ ٹائٹل پیچ پر وہی ایڈریس اور سن اشاعت رہنے دیا ہے،حالانکہ طباعت اول96 صفحات پر مشتمل تھی اور کتابت دستی تھی اور اب کا ایڈیشن کمپوز شدہ ہے اور 90 صفحات پر محیط ہے۔ بشکریہ ضیائے حدیث لاہور ، اپریل ، مئی 2009 |